گرمی سے بچاؤ کا طریقہ

 قارئین کرام اسلام علیکم ورحمتہ اللہ 



قارئین گرمی کا موسم ہے اور اس ٹائم ہیٹ بہت زیادہ ہے بالخصوص وہ لوگ جو زمینداری کا کام کر رہے ہیں زمینوں پہ کام کر رہے ہیں یا جن کا کام باہر دھوپ کے اوپر ہے ان کو بہت مشکلات درپیش ہیں اور خطرات بھی درپیش ہیں اس موسم میں ڈی ہائیڈریشن بہت زیادہ ہو جاتی ہے پانی کی کمی جو ہے وجود میں پیدا ہو جاتی ہے پانی جتنا زیادہ پیا جاتا ہے وہ پسینہ بن کے نکل جاتا ہے تو اس ٹائم پانی ویسے بھی زیادہ پیا جاتا ہے اور زیادہ پینا ہی چاہیے کیونکہ پانی واحد دفاعی لائن ہے اس موسم میں ہمارے نظام کو کول رکھنے کے لیے اندرونی کولنگ کے لیے ضروری ہے 

تو جو دوست محنت مزدوری کر رہے ہیں یا باہر گرمی دھوپ پہ کام کر رہے ہیں یا بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے وی یا فیکٹریوں میں کسی ایسے ایریا میں کام کر رہے ہیں یہاں پہ ان کو حبس کے ساتھ سامنا ہے یا دھوپ کا براہ راست سامنا ہے ایسے لوگوں کو خطرات بہت زیادہ ہیں تو اس موسم میں کچھ احتیاطی تدابیر کو اختیار کیا جائے جس سے انسان اپنی جو تکلیف ہے اس کو کم کر سکتا ہے خطرات سے بچ سکتا ہے تو کچھ تجاویز میں اپ کے سامنے رکھوں گا جس پہ ایک عام ادمی عمل درامد کر کے خود کو اس ٹائم اس دھوپ سے بچا سکتا ہے 

تو سب سے پہلے تو یوں کریں کہ اپ سر کو ڈھانپ کے رکھیں تاکہ اگر اپ کے پاس امبریلا ہے چھتری کا اپ استعمال کر رہے ہیں تو وہ بیسٹ ہے اس سے اپ کو سایہ مہیا ہوگا یا پھر اگر وہ موجود نہیں ہے تو کوئی کپڑا ہے چادر رومال کوئی ایسی چیز جس سے اپ سر کو ڈھانپ سکیں اور دھوپ براہ راست اپ کے سر پہ اور گردن کے پچھلے حصے پر اور نہیں ہونی چاہیے دو براہ راست نہیں لگنی چاہیے چہرے کو اب زیادہ سے زیادہ جو ہے دھوپ سے بچائیں یہ اپ کے لیے مفید ہے 

نمبر دو پہ میں یہ تجویز کروں گا کہ اگر اپ کے پاس چادر ہے یا کیپ جو اگے چہرے پہ سایہ کرنے والا کیپ ہے اس کا استعمال کریں تو جس سے چہرے پہ سایہ بنا رہے گا لیکن کیپ سے زیادہ چادر مفید ہے اس لیے کہ چادر اپ کے پورے سر کو ڈھانپتی ہے بالکل خصوص سر کا جو پچھلا حصہ ہے گردن کا حصہ اس کا ڈھانپنا بہت ضروری ہے جہاں پہ ہیٹ بہت زیادہ اثر کرتی ہے اور اعصاب کا جو نظام ہے اس سے اس گرمی کی وجہ سے متاثر ہوتا ہے 


نمبر تین پہ پانی کے ساتھ جو ہے اس وقت سب سے بیسٹ جو چیز ہے ٹھنڈے پانی کے ساتھ جو ہے نا لیموں پانی کا استعمال بہت ضروری ہے جس میں نمکول کا استعمال اگر اپ بازار سے میڈیکل سٹور سے نمکول کی پڑی لے لیں اور کیلسی کی بڑی کا استعمال جو ہے نا اس ٹائم بہت مفید ہے اس گرمی کو روکنے کے لیے یس گرمی کے اثرات سے بچنے کے لیے اگر اپ خود سے بنانا چاہتے ہیں تو چینی کا جو شربت ہے عام طور پہ ہم بناتے ہیں اس چینی کی شربت میں اپ ایک نیمبو ایک عدد نیمبو جو ہے ایڈ کر سکتے ہیں نچوڑ کے اسے اپ استعمال کر سکتے ہیں یہ ایک عام چیز ہے جو اس گرمی کے اثرات سے اپ کو بچائے گی اور ساتھ اپ کی پسینے کے ساتھ جو نمکیات بہت زیادہ ضائع ہو رہے ہیں اس سے بھی اپ بچ جائیں گے 

اس ٹائم پنجاب کا موسم یا جنوبی بلوچستان کا موسم اور سندھ کا موسم بالخصوص اور کے پی کے میں پشاور کی جو سائیڈ ہے بہت زیادہ گرم ہے اور ان درا اسماعیل خان پشاور ان ایریاز میں بنو ہو گئی ہے زیادہ گرم ہے تو یہاں پہ بہت زیادہ مسائل ہیں گرمیوں کے تو ایک میں اپ کے ساتھ ایک ریمیڈی شیئر کرتا ہوں ریسپی شیئر کرتا ہوں جس کو اپ اگر بنا لیں تو اس سے اپ کو بہت فائدہ ہوگا 

اپ یوں کریں کہ 

تخم ملنگا جو ہے دو چمچ اور ایک عدد لیمبوں کا رس نچوڑ کے اس کے اندر ڈال دیں اور اس کو رات کو اپ بھگو کے بڑا رہنے دیں اگر اپ زیادہ ٹائم نہیں دے سکتے تو کم سے کم ایک گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ دو گھنٹے سے پانی میں رہنے دیں تاکہ تخم ملنگا کہ جو اثرات ہیں وہ پانی میں منتقل ہو جائیں اور نرم ہو جائے پھول جائے تھوڑا سا تو اس کے بعد اپ اس کے اندر روح افزاء کا شربت جام شیریں  کا شربت ایڈ کر سکتے ہیں اس میں اپ کے کیلسی کی پڑی  ایڈ کر سکتے ہیں یا اس میں اپ ایک چمچ نمکول بھی ایڈ کر سکتے ہیں 

یہ جو پانی ہے یا یہ جو یہ شربت جو بنے گا یہ انتہائی درجے کا مقوی اعصاب ہے اور لیور کی گرمی کو حدت کو کم کرتا ہے گردوں کے فعل کو یہ تیز کرتا ہے پیشاب اور ہے اور جگر کی حدت کو کم کر کے کنٹرول کرتا ہے اعصاب کو طاقت دیتا ہے اور انسانی وجود کو بے حد درجہ ٹھنڈک پہنچاتا ہے اور ساتھ ساتھ انسانی وجود میں جو نمکیات اور پانی کی کمی ہے اس سے بھی پورا کرتا ہے تو یہ بہت سستا علاج ہے اس پہ اگر اپ اس کے ایک کولر بھر کے رکھ لیں تو میں کہتا ہوں کہ یہ دن کے پورے ٹائم کو گھر کے لیے ایک کولر یا دو کولر کافی ہیں اور اپ کوئی بے حد فائد مفید بے  اپ کے لیے اس کے بڑے کثیر فوائد ہیں 

قارئین کرم اس موسم میں گرمی کی شدت کی وجہ سے اکثر لوگوں کو حیضہ ہو جاتا ہے یا لیکج کی جو صورتحال ہے وہ پیدا ہو جاتی ہے تو یاد رکھیں کہ حیضہ یا لوز موشن پانی کی طرح موشن انے کو کہتے ہیں اس میں درد بھی ہوتا ہے بعض اوقات درد نہیں ہوتا الٹیاں اور درد اس میں ہوتا ہے 

اور جو پیچس کی صورتحال ہے اس میں الٹی اور ۔معدہ میں درد نہیں ہوتا مگر پیٹ میں درد ہوتا ہے پیٹ میں مروڑ ہوتی ہے اور درد جو ہے وقفے وقفے سے اٹھتا ہے اور پاخانہ جو بلغم ملا ہوا شدید بدبودار قسم کا اور تھوڑی مقدار میں خارج ہوتا ہے اور وہ گرم ہوتا ہے انتہا درجہ گرم ہوتا ہے اس میں سے سوزش ہوتی ہے اور جلن محسوس ہوتی ہے تو یہ پیچس یا دستوں یا موشن کا تھوڑا سا فرق میں نے اپ کو سمجھایا تو اس موسم میں پیجز کا جو چانس ہے وہ بہت زیادہ ہے اور یہ گرمی کی وجہ سے ہوتا ہے انسانی لیور میں حدت زیادہ ہونے کی وجہ سے  یا جو پہلے سے گرمی کے مریض ہیں اور اوپر سے یہ ہیٹ جو ہے ان کی حدت یا گرمی کو اور بڑھا دیتی ہے جس کی وجہ سے ان کے ساتھ یہ معاملات پیش ا سکتے ہیں جو ریمیڈی میں نے اپ کو بتائی ہے اگر اپ اس پہ عمل کریں گے تو ایک دو یہ تین ٹائم کی جو تین چار گلاس اگر اپ بھی اس کے پی لیں گے تو اس سے اپ کی جو پیچز کی صورتحال ہے پیٹ کا درد مروڑ اور یہ چیزیں جو ہیں ساری ختم ہو جائیں گی اور اپ نارمل محسوس کریں گے 

قارئین اس موسم میں جو سب سے بچاؤ کی یہ تدبیر میں نے اپ سے بیان کی کہ اپ خود کو دھوپ سے بچائیں اور کھلی تازہ ہوا اور ٹھنڈی ہوا میں رکھیں اور دوسری جو چیز ہے وہ ایک اپ خود کو گرم غذاؤں سے بچا ئیں اور گرم غذاؤں میں سب سے زیادہ گرم تیز مصالحے ہیں اور تیز مرچ کا استعمال ہے 

اس موسم میں ام کا جو فصل ہے وہ اتری ہوئی ہے آم کی فصل مارکیٹ میں موجود ہے اور ام کا مزاج گرم تر ہے   یہ گرمی پیدا کرتا ہے انسانی وجود میں اگر اپ نے ام کا جوس لینا بھی ہے تو عام اور کیلے کو جوس کو مکس کر کے بنوائیں یا پھر ام کے جوس کے اندر دودھ کا مکس کر کے اپ استعمال کریں تو اس سے اس کی جو حدت ہے جو گرمی ہے وہ کم ہو جائے گی اس کے علاوہ اپ اگر یہ نہیں کر سکتے تو پھر اپ آم کے استعمال سے پرہیز کریں تیز مرچ مصالحے کے استعمال سے پرہیز کریں اور اس ٹائم خوبانی یا زردالو جو ہے ا یہ اس کا موسم ہے اور یہ بھی گرم ہے اس کا استعمال بھی اپ نے نہیں کرنا ہے اور گوشت کا جو استعمال ہے وہ بھی کم سے کم رکھیں تو بہتر رہے گا کیونکہ گوشت کی وجہ سے جو  پروٹین کی زیادتی کی وجہ سے بھی گرمی پیدا ہوتی ہے تو وہ بھی اپ کو نقصان دے سکتی ہے یا اس سے اپ کو فوڈ پوائزنگ ہو سکتی ہے معدے کا نظام حدت کی وجہ سے گرمی کی وجہ سے کچھ سلو ہو جاتا ہے اور وہ اپ کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے 

اس کے علاوہ اپ پالک ساگ ان دو کا استعمال بالکل نہیں کریں گے یہ انتہا درجہ خشک گرم مزاج ہے اور چنے کی دال جو ہے وہ اپ کو نقصان دہ اس کے علاوہ مسور کی دال جو ہے اس وقت وہ بھی نقصان دہ ہے اس کا سالن اپ اس ٹائم نہ لیں تو اپ کے لیے سب سے بہتر ہے باقی دالیں نارمل ہیں وہ اپ یوز کر سکتے ہیں مگر مسور کی دال اور چنے کی دال چونکہ اس موسم میں گرم ہے تو جن لوگوں کو گرمی کے مسائل ہیں یا تکالیف ہیں ان سے وہ بچنا چاہتے ہیں تو انہیں یہ ڈش استعمال نہیں کرنی چاہیے 











زندگی کی تخلیق کا مقصد صرف امن سلامتی سے جینا ہے؟

مین نے خود سے پوچھا میں کون ہوں ؟


     



  1, انسان کی زندگی ہو یا حیوانات وغیرہ ٹائم اور اسپیس کے دوش پر لہروں کی تانوں بانوں سے بنا یہ انسان سمجھتا ہے کہ مٹی اس کی اصل ہے ؟۔   
  اگر چہ یہ بات حقیقت کے بہت قریب ہے دنیا سائنس اس کو مانتی ہے
دنیا کے دیگر علوم بھی مگر یہ آدھا سچ ہے ؟
 اسلام اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ انسان ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر کا مجموعہ ہے ؟

اس کا وجود ہو یا سوفٹویئر دو رخ پر قائم ہے اور اس نظام قائم ہے پاور انرجی پر جیساکہ بجلی یا بیٹری جو دل میں پیدا ہوتی ہے مگر اس کی زندگی پھر بھی ان سے مکمل نہیں ہے ؟
اس کو تکمیل کی طرف لے جاتا ہے 
خیالات کا سگنل سسٹم نے  مگر کیسے ؟

اس کا سوفٹ ویئر بیٹری بجلی کی لہروں پر قائم ھے جو ہارڈ ویئر وجود کو قوت دیتی ہیں اور یوں یہ زندہ ہے۔
 
مگر  کہا جاتا ہے کہ اس طرح تو حیوانات جمادات بھی زندہ ہیں پھر فرق کیا ہے ؟

فرق توجہ کو متقاضی ہے

فرق ہے روح اور انٹرنیٹ 10 جی ڈیٹا سسٹم جو شاید دس جی بی  سے بھی زیادہ سو جی بی کی اسپیڈ سے کام کرتا ہے اور اس نظام کے ذریعہ اللہ نے اسے علم کی فضیلت سے نوازا ہے یہیں سے اس میں تخلیقی صلاحیتوں کو پرو دیا گیا ہے
جو اس کی افضلیت کا بنیادی سبب ہے  اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ، 
ہم نے ادم۔کو علم الاسماء سکھایا ہے 
 (آدم حوا سے مراد تمام انسانوں کے کے ماں باپ)
(قرآن)
 وہ علم الاسماء ہے تخلیق کی صلاحیت ،تمیز کی صلاحیت ، سچ جھوٹ کو الگ کرنے کی صلاحیت غلط اور صحیح کو الگ کرنے اور پھر فیصلہ کرنے کا اختیار کہ وہ برائی کو اختیار کریگا یا اچھائی کو ۔

 دیکھو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ،

میں نے موت اور زندگی اس لئیے پیدا کی کہ میں دیکھوں آزماؤں کہ تم میں کون نیکی کرتا ہے یعنی اچھائی سچائی کا انتخاب کرتا ہے ؟۔
 ( سورۃ ملک)
شعور اور عقل کی بات کی جائے تو حیوانات کہیں انسان سے افضل نظر آتے ہیں
عقل ان میں بھی ہے
شہد کی مکھی ہو یا چیونٹی کا نظام حیات ہو یا کتے کی وفاداری جب غور کیا جائے تو عقل دنگ رہ جاتی ہے
اس دلیل کے بعد آپ یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ حیوانات میں عقل نہیں ہے
انسان کو اور حیوانات کو خیال کی انسپائریش یکساں ہوتی ہے درد تکلیف خوشی غم سردی گرمی کا احساس سوچ یکساں ہے
افزائش نسل کی بات ہو یا روزی  روٹی کی بھوک سب کو یکساں لگتی ہے بیمار بھی ہوتے ہیں شفاء یاب بھی
ایک چیز باقیوں کے پاس نہیں ہے وہ ہے علم اختیار اور تخلیقی صلاحیت سوال کرنے کی قوت ؟ جواب دینے کا اختیار اور علم 
کچھ مزید جاننے کی جستجو مگر یہ وابستہ ہے انٹر نیٹ سے جو سو جی بی سے زیادہ مضبوط پاور کے ساتھ انسانی نظام کو فیڈنگ انسپائر یش کرتا ہے۔۔   

اسلام کہتا ہے کہ انسان کے اندر چھ نظام کام کرتے ہیں یا یوں کہیں کہ چھ مختلف قوتیں کام کرتی ہیں
دو دل کے ماتحت دو  ؟
دو لیور جگر کے ماتحت ؟
دو دماغ اور اعصاب کے ماتحت 
 ہر ایک نظام ایک دوسرے میں اس طرح گوندھا ہوا ہے جیسے آٹے میں نمک  یا پانی موجود ہو تا ہے 

یہی وہ نیابت خدا وندی ہے جس کو انسان  نے اٹھایا ہے
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں
ہم نے پہاڑوں پر اپنی امانت پیش کی تو انہوں نے اسے اٹھانے سے معزرت کر لی 

مگر انسان نے اس امانت کو اٹھا لیا
اللہ فرماتے ہیں یہ ظالم اور جاھل ہے ؟
اس سے ثابت ہوا کہ پہاڑ بھی عقل شعور رکھتے ہیں اگر ایسا نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ ان کو اتنی بڑی نیابت کیونکر سونپ رہا تھا ؟

پھر اتنی بڑی نعمت نیابت لینے کے بعد یہ ظالم اور جاھل کیوں کر ہوا یہ سوال جواب کا متقاضی ہے ؟


اللہ کی نیابت کیا ہے ؟
مطلب اللہ نے انسان کو کائنات میں اپنا نائب بناکر بھیجا اور اختیار دیا قوت فیصلہ اور عدل انصاف صحیح اور غلط کا علم دیا
اور تخلیق کا علم بھی
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
 واللہ احسن الخالقین (قرآن)

یعنی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں سب سے بہترین تخلیق کرنے والا ہوں
اب آج کی جدید مثال اے آئی ہے
جو انسان کی تخلیق ہے
مگر انسان خود اللہ کی تخلیق ہے
مگر افضل تخلیق اللہ کی ہے جو انسا ہے ،
مگر وہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ یہ ظالم اور جاھل کیونکر ہے ؟

مستورات میں ماہواری کی خرابی

 

مستورات میں ماہواری کی تکالیف

(قانونِ مفرد اعضاء کے تحت ایک فکری و طبّی مطالعہ)

تحریر : ڈاکٹر سید محمد شاہ غرشین



عورت کا وجود قدرت کا ایک نازک مگر نہایت مضبوط شاہکار ہے۔ اس کے جسم میں جاری ماہواری کا نظام محض ایک حیاتیاتی عمل نہیں بلکہ صحت، توازن اور اندرونی ہم آہنگی کی علامت ہے۔ جب یہ نظام اپنی اصل حالت میں ہو تو نہ کوئی تکلیف ہوتی ہے، نہ ذہنی بوجھ—ایک فطری روانی کے ساتھ ایام آتے اور گزر جاتے ہیں۔
لیکن جب اس توازن میں خلل پیدا ہوتا ہے تو یہی فطری عمل ایک آزمائش بن جاتا ہے—کبھی درد کی شدت میں، کبھی خون کی زیادتی میں، اور کبھی اس کی کمی یا بندش میں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں سطحی علامات سے آگے بڑھ کر نظامی فہم (Systemic Understanding) کی ضرورت ہوتی ہے۔
عورت کا نظامِ تولید — صرف رحم نہیں، ایک مکمل نظام
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ماہواری کا تعلق صرف رحم (Uterus) سے ہے، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔
قانونِ مفرد اعضاء کے مطابق، عورت کا نظامِ تولید تین بنیادی نظاموں کے باہمی ربط سے قائم ہے:
اعصابی نظام (Aasabi): جو احساسات، درد اور تحریک کو کنٹرول کرتا ہے
غدی نظام (Ghaddi): جو ہارمونز پیدا کرکے پورے نظام کو چلاتا ہے
عضلاتی نظام (‘Azlati): جو رحم کے سکڑاؤ اور پھیلاؤ کو کنٹرول کرتا ہے
اہم بات یہ ہے کہ عورت کا غالب مزاج غدی و اعصابی ہوتا ہے، جبکہ عضلاتی نظام صرف اظہار کا ذریعہ بنتا ہے، اصل محرک نہیں۔
صحت کی حالت  جب سب کچھ متوازن ہو
ایک صحت مند عورت میں:
ماہواری وقت پر آتی ہے
خون کی مقدار معتدل ہوتی ہے
درد نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے
جسم اور ذہن دونوں ہلکے محسوس ہوتے ہیں
یہ دراصل اس بات کی علامت ہے کہ اعصاب، غدد اور عضلات تینوں نظام ایک ہم آہنگ ترتیب میں کام کر رہے ہیں۔
جب توازن بگڑتا ہے 

 تین بنیادی کیفیات
جب اس ہم آہنگی میں خلل آتا ہے تو تین نمایاں کیفیات سامنے آتی ہے

1. دردناک حیض جب اندر کی شدت چیخ بن جائے
یہ وہ کیفیت ہے جس میں عورت نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی اذیت سے بھی گزرتی ہے۔
پیٹ میں مروڑ، کمر میں درد، ٹانگوں میں کھچاؤ اور بعض اوقات آنکھوں میں آنسو تک آ جاتے ہی






نظامی تجزیہ:
یہ کیفیت دراصل غدی اور اعصابی نظام کی شدید تحریک کا نتیجہ ہوتی ہے۔
غدد  ناقلہ غیر متوازن سگنل دیتے ہیں
اعصاب میں شدید تسکین آ جاتی ہے
 اور سفراءوی مواد خون میں زیادہ ہوتا ہے رحم کے پٹھے بے قابو سکڑتے ہیں
انسانی پہلو:
یہ صرف درد نہیں یہ ایک ایسی کیفیت ہے جس میں عورت خود کو بے بس محسوس کرتی ہے۔
گھر کے کام، بچوں کی ذمہ داریاں، اور معاشرتی دباؤ سب کچھ اس درد کے سامنے ماند پڑ جاتا ہے۔

2. کثرتِ طمث : جب جسم اپنی حد سے بڑھ جائے
یہ کیفیت بظاہر ایک “زیادہ ہونے” کی علامت ہے، مگر حقیقت میں یہ کمزوری اور بے ترتیبی کی نشانی ہے۔
علامات:
بہت زیادہ خون
لوتھڑوں کا اخراج
شدید کمزوری
چکر یا بے ہوشی
نظامی تجزیہ:
یہ غدی اور عضلاتی نظام کی تحریک کا نتیجہ ہے:
غدد خون کی زیادتی پیدا کرتے ہیں
غدد جاذبہ کی تحریک ہے یہ غدی عضلاتی تحریک کا نتیجہ ہے مگر عضلات کی خشکی بہت زیادہ ہے 

عضلات اس کو قابو میں نہیں رکھ پاتے







انسانی پہلو:
ایسی عورت اکثر خاموشی سے یہ سب برداشت کرتی ہے۔
وہ کسی کو بتاتی نہیں، بس کمزوری کے باوجود اپنے فرائض نبھاتی رہتی ہے یہی اس کی سب سے بڑی آزمائش ہے۔

3. قلت یا بندش حیض 

جب خاموشی بولنے لگے
یہ کیفیت بظاہر “کمی” کی ہے، مگر اس کے اندر ایک خاموش اضطراب چھپا ہوا ہے۔

علامات:
حیض کا دیر سے آنا یا نہ آنا
بہت کم مقدار
لیکوریا (سفید رطوبت)
نظامی تجزیہ:
یہ اعصابی اور غدی نظام کی کمزور تحریک اور
رطوبت کی زیادتی کا نتیجہ ہے۔
اعصاب کمزور مگر مسلسل متحرک
غدد سست ردعمل دیتے ہیں
جسم میں بوجھل رطوبت غالب آ جاتی ہے





انسانی پہلو:
ایسی عورت اکثر فکرمند رہتی ہے
“کیا میرے اندر کوئی کمی ہے؟”
یہ سوال اسے اندر ہی اندر کھاتا رہتا ہے۔

اصل حقیقت مرض کہاں ہے؟

قانونِ مفرد اعضاء ہمیں ایک بنیادی سچ سکھاتا ہے:
مرض عضو میں نہیں، نظام میں ہوتا ہے۔”
رحم صرف ایک آئینہ ہے، جس میں اندرونی خرابی نظر آتی ہے۔
اصل مسئلہ اعصاب، غدد یا عضلات کے باہمی عدم توازن میں ہوتا ہے۔

علاج :صرف نسخہ نہیں، ایک اصول
ہو شافی
زیرہ سیاہ دو تولہ
سونف تین تولہ 
اجوائن دیسی تین تولے
سفوف بناکر تین ٹائم نیم گرم پانی کے ساتھ پانچ سو ملی گرام کیپسول بھر کر دیں

عام طور پر لوگ فوراً نسخہ پوچھتے ہیں، مگر اصل علاج صرف دوا نہیں بلکہ نظام کی درستگی ہے۔ نسخہ کے ساتھ ساتھ
اصولی طریقہ
درد میں:
اعصاب کو سکون دینا
غدی تحریک کو متوازن کرنا
کثرت میں:
غدد کو قابو میں لانا
عضلات کو مضبوط کرنا
بندش میں:
غدد کو تحریک دینا
رطوبت کو کم کرنا
اعصاب کو فعال کرنا

غذا اور طرزِ زندگی کا کردار
کھٹی، بادی اور حد سے زیادہ خشک اشیاء سے پرہیز
متوازن غذا
ذہنی سکون
مناسب نیند
یہ سب چیزیں دوا سے کم اہم نہیں بلکہ بعض اوقات زیادہ مؤثر ہوتی ہیں۔
ایک اہم فکری پیغام
عورت کا جسم صرف ایک جسم نہیں یہ احساسات، ذمہ داریوں اور قربانیوں کا مجموعہ ہے۔
اس کے درد کو صرف “عام بات” سمجھ کر نظر انداز کرنا ظلم ہے۔
ہر وہ عورت جو ان کیفیات سے گزرتی ہے، اسے ضرورت ہے:
سمجھ کی
توجہ کی
اور صحیح رہنمائی کی
نتیجہ
ماہواری کی تینوں کیفیات—درد، کثرت، اور بندش—بظاہر الگ الگ ہیں، مگر حقیقت میں یہ ایک ہی نظام کے مختلف رخ ہیں۔
اگر ہم صرف علامت کو دیکھیں گے تو وقتی فائدہ ہوگا،
مگر اگر ہم نظام کو سمجھ لیں گے تو مکمل شفا ممکن ہے۔

یہ مضمون صرف معلومات کے لئے لکھا گیا ہے تاہم ساتھ  ایک دعوتِ فکر ہے
کہ ہم عورت کے جسم کو سطحی نظر سے نہیں بلکہ ایک مکمل نظام کے طور پر دیکھتے ہیں

 

گرمی سے بچاؤ حفاظتی تدابیر

جام ٹھنڈک گرمی کا توڑ





 جام ٹھنڈک جس میں شامل ہی

 اسبغول سالم 100 گرام

 گوند کتیرا باریک 100گرام

 تخم بالنگا 200 گرام

 تمام کو مکس کر کے ایک چمچ کھانے والا رات کو پانی میں بھگو کر صبح نہار منہ دودھ ڈال کر نوش فرمائیں ۔

 فوائد مندرجہ ذیل ہیں یہ تینوں اجزاء اپنی اپنی جگہ طاقتور خواص رکھتے ہیں، اور جب انہیں ملا کر استعمال کیا جائے تو یہ ایک بہترین قدرتی ہائیڈریشن اور ٹھنڈک کا نسخہ بن جاتے ہیں معدے اور ہاضمے کی اصلاح تیزابیت کا خاتمہ گوند کتیرا اور اسبغول دونوں کی تاثیر ٹھنڈی ہوتی ہے۔ 

یہ سینے کی جلن اور معدے کی تیزابیت (Acidity) کو ختم کرنے میں بہت معاون ہیں۔ قبض سے نجات: اسبغول کا چھلکا اور تخم بالنگو فائبر سے بھرپور ہوتے ہیں۔ 
رات بھر پانی میں بھیگنے کے بعد یہ آنتوں کی صفائی کرتے ہیں اور دائمی قبض کو دور کرتے ہیں۔ جسمانی ٹھنڈک اور گرمی کا توڑ  یہ مشروب خاص طور پر گرمیوں کے موسم میں "اندرونی حرارت" کو کم کرنے کے لیے بہترین ہے۔ ہاتھوں پاؤں کی جلن اور پیاس کی شدت کو کم کرتا ہے۔
 نکسیر پھوٹنے یا گرمی کی وجہ سے ہونے والے سر درد میں سکون دیتا ہے۔
 وزن میں کمی اور کولیسٹرول تخم ملنگاں اور اسبغول پیٹ کو دیر تک بھرا ہوا محسوس کرواتے ہیں، جس سے بے وقت کی بھوک نہیں لگتی۔ یہ وزن کم کرنے کے خواہش مند افراد کے لیے بہترین ناشتہ ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ خون میں برے کولیسٹرول کی سطح کو کم کرنے میں بھی مددگار ہیں۔ 

مردانہ و نسوانی صحت (اعتدال کے ساتھ) طبِ مشرق میں گوند کتیرا کو جسمانی کمزوری دور کرنے اور مادہ منویہ کو گاڑھا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ جریان سرعت اور احتلام جیسے مسائل میں مفید ہے کیونکہ یہ خون کی حدت (گرمی) کو معتدل کرتا ہے۔ 
خواتین کے لیے یہ کمر درد اور لیکوریا جیسے مسائل میں طاقت بخشتا ہے۔ جلد اور بالوں کی شادابی جسم سے زہریلے مادوں (Toxins) کے اخراج اور ہائیڈریشن کی وجہ سے چہرے پر رونق آتی ہے اور دانوں یا کیل مہاسوں میں کمی ہوتی ہے۔ قانون مفرد اعضاء کے مطابق جام ٹھنڈک Herbal Cooling Mist کے فوائد قانون مفرد اعضاء کے مطابق یہ تینوں اجزاء اعصابی غدی (تر گرم) اور اعصابی عضلاتی (تر سرد) مزاج کے حامل ہیں۔ 

ان کا بنیادی مقصد جسم میں "رطوبت" (Moisture) کی مقدار کو بڑھانا اور خلیات میں تسکین پیدا کرنا ہے۔ یہ نسخہ خاص طور پر عضلاتی غدی (خشک گرم) اور غدی عضلاتی (گرم خشک) تحریکوں کے مریضوں کے لیے ایک بہترین علاج ہے۔ عضلاتی خشکی کا خاتمہ (تسکینِ عضلات) جسم میں جب خشکی بڑھ جاتی ہے (سوداوی تحریک)، تو قبض، بواسیر، اور جسمانی کھچاؤ پیدا ہوتا ہے۔ یہ مرکب اپنی شدید تری (رطوبت) کی وجہ سے عضلات کو نرم کرتا ہے اور سدے خارج کر کے قبض دور کرتا ہے۔ 
غدی حرارت کی تسکین (تحلیلِ غدد) اگر جگر اور غدد میں غیر فطری حرارت بڑھ جائے (صفراوی تحریک)، تو پیشاب کی جلن، یرقان، اور ہاتھ پاؤں میں آگ نکلنے کا احساس ہوتا ہے۔ یہ نسخہ جگر کی حدت کو ٹھنڈک میں بدل کر صفرا کا اخراج کرتا ہے۔ صالح رطوبات کی پیدائش یہ مرکب جسم میں "رطوبتِ غریزیہ" کی حفاظت کرتا ہے۔ خاص طور پر گوند کتیرا اور تخم بالنگو مادہ منویہ میں رطوبت بڑھا کر اس کی تیزی اور حدت (گرمی) کو ختم کرتے ہیں، جس سے سرعتِ انزال اور پیلا لیکوریا جیسے امراض (جو غدی عضلاتی تحریک کی وجہ سے ہوں) میں فوری فائدہ ہوتا ہے۔ سوزشِ معدہ و آنت (Gastritis) معدے کے زخم (Ulcer) یا آنتوں کی سوزش جو گرمی اور خشکی کی وجہ سے ہو، اس کے لیے یہ ایک بہترین "لُعابی" ڈھال فراہم کرتا ہے، جس سے اعضاء کو سکون ملتا ہے۔ استعمال کا مشورہ چونکہ اس میں دودھ شامل کیا جا رہا ہے، اس لیے یہ اعصابی اثرات کو مزید تقویت دیتا ہے۔ کب استعمال کریں

 اگر مریض کی زبان سرخی مائل ہے، پیشاب زرد یا جل کر آتا ہے، اور نبض مقامِ عضلات یا غدد پر ہے (تیز اور سخت ہے)۔ کب استعمال نہ کریں: اگر مریض پہلے سے اعصابی تحریک (بلغم کی زیادتی، سفید پیشاب، سردی لگنا) کا شکار ہو، تو یہ نسخہ اس کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ یہ مزید رطوبت پیدا کر کے نظامِ ہضم کو سست کر دے گا

غذاء کی افادیت بدن انسانی کے لئیے

السلام علیکم قارئین

 اب تک ہم علاج بالغذا کے عنوان پہ بہت ساری معلومات اپ کے ساتھ شیئر کر چکے ہیں 

انسانی زندگی میں غذا کی ضرورت اہمیت اور افادیت کا اندازہ ہر شخص کو ہے ہم طبی نکتہ نگاہ سے یا جدید زبان میں سائنسی نکتہ نگاہ سے اپ کو سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ زندگی میں غذا کا کیا کردار ہے غذا کی زیادہ استعمال اسراف سے کیا امراض پیدا ہو سکتے ہیں اور غذا کو نارمل اور ضروری طور پہ استعمال کرنے سے کیسے شفا حاصل ہو سکتی ہے 


مثلا اگر زندگی کے اسباب لازمی کی بات کی جائے تو ہر زندگی چاہے وہ انسان کی ہے یا حیوان کی اس میں جو لازمی اسباب زندگی ہیں وہ چھ ہیں 

جس میں

 (1) ہوا اور روشنی ہے

(2) اس میں کھانا پینا ہے 

(3)جس میں حرکت اور سکون ہے 

(4)جس میں حرکت اور سکون نفسیاتی ہے

(5) جس میں نیند اور بیداری ہے 

(6)جس میں استفراغ اور احتباس ہے

 یہ ایسے قوانین اور صورتیں ہیں جن میں زندگی کا تعلق کائنات سے بھی پیدا ہو جاتا ہے

 انہی کو اسباب زندگی کہا جاتا ہے طبی اصطلاح میں ان کو اسباب ستہ ضروریہ کہتے ہیں

 ان میں جب کمی بیشی واقع ہوتی ہے اس کی وجہ سے بدن انسانی میں جو حالت پیدا ہوتی ہے اس کو مرض کا نام دیا جاتا ہے جن کی تفصیلات مختلف امراض کے عنوان کے تحت طب کی کتب میں موجود ہے 


اب یہ چھ اسباب ضروریہ جو میں نے بیان کیے ہیں دراصل تقسیم ہو کے تین صورتیں اختیار کر لیتے ہیں 

ائیے اس کو سمجھتے ہیں

(1) نمبر ایک جسم کو غذائیت مہیا کرنا 

جیسے ہوا اور روشنی

  ماکولات اور مشروبات 

 یعنی کھانے اور پینے کی اشیاء ہیں 

(2)جسم میں غذائیت کو ہضم کر کے جزو

 بدن بناتے ہیں یا جز بدن بنانے میں جو چیزیں معاون اور مددگار ہیں اس میں نیند اور بیداری ہے

 حرکت و سکون  جسمانی ہے

 اور حرکت و سکون  نفسانی ہے

 (3)جسم کے اندر غذائیت ایک مقررہ وقت تک قائم رہے تاکہ وہ جزو بدن بن جائے جب ان کی ضرورت نہ ہو تو اس کو خارج کر دیا جائے ان کو احتباس استفراغ کہتے ہیں 


اب بات غذائیت زندگی کی  کی جائے تو غذائیت میں ہوا اور روشنی کے ساتھ ہر قسم کی وہ اشیاء شامل ہیں جو ہم کھاتے ہیں اور پیتے ہیں استعمال کرتے ہیں جن میں نباتات ہیں زہریات  ادویات ہیں سبزیاں ہیں گوشت ہے دودھ ہے پانی ہے یا مختلف  مرکب مشروبات شامل ہیں 

ان کے متعلق یہ امور ذہن نشین کر لیں کہ وہ سب جسم میں صرف غذائیت مہیا نہیں کرتی بلکہ جسم بھی بناتے ہیں یعنی آپ اگر دیکھیں کہ

 انسان بچپن سے لڑکپن لڑکپن سے  جوانی جوانی سے بڑھاپا یہ تمام مراحل انہی کی مدد سے طے پاتے ہیں یعنی ایک طرف جسم کو غذائیت فراہم کی جاتی ہے دوسری طرف جسم کو بنایا جاتا ہے نشوونما ہوتی 

سب سے بڑی بات یہ ہے کہ حرارت غریزی اور رطوبت  غریزی کی مدد کرتی ہے مطلب

غذائیت حرارت غریزی اور رطوبت غریزی کی مدد کرتی ہے جو انسان کے اندر ایک نظام ہے ان حقائق سے یہ ثابت ہوا کہ غذائیت کی ضرورت کی چند اقسام ہیں جو لازم اور ملزوم 


(1)

غذائیت سے اخلاط خصوصا خون پیدا ہوتا ہے

 (2)

 غذائیت سے کیفیات بنتی ہیں 

(3)

 غذائیت سے جسم کی تعمیر ہوتی ہے 

(4)

 جو کچھ جسم انسانی میں کسی حیثیت سے خرچ ہوتا ہے وہ پھر مکمل ہوتا ہے 

(5)

 غذائیت سے حرارت غریزی کو مدد ملتی ہے

(6)

  غذائیت سے رطوبت غریزی قائم رہتی ہے 

غذا کی ضرورت کی ایک دلیل یہ بھی ہے میں ایک مثال دیتا ہوں اپ کو

 کہ جس طرح چراغ میں تیل ہوتا ہے اور بتی ہوتی ہے چراغ کی لو روشنی کو قائم رکھنے کے لیے تیل اور بتی کا وجود لازمی ہے

 تیل چراغ کی بتی میں خرچ ہوتا ہے جس سے بتی چراغ جلتا ہے

 اس طرح انسان اور حیوان کے بدن کی حرارت اور رطوبت بھی خرچ ہوتی ہے بالکل چراغ کے تیل اور بتی کی طرح جب وہ دونوں خرچ ہو جائیں تو وہ بجھ جاتا ہے 

اس طرح حرارت اور رطوبت انسان فنا ہو جانے سے

 انسانی زندگی کا چراغ کو گل کر دیتا ہے

اس کا مطلب یہ ہے کہ جب رطوبت یا حرارت انسانی وجود سے ختم ہو جائے تو انسان مر جاتا ہے 

پس حرارت اور رطوبت انسانی جو انتہائی ضروری اور لا ابدی اشیاء ہیں

 ان کا بدل اور معاوضہ ہونا لازمی امر ہے 

تاکہ حرارت غریزی اور رطوبت غریزی فورا جل کر فنا نہ ہو جائیں

 اس لیے غذائیت ایک انتہائی ضروری اور لا ابدی شے ہے 

 اسکی طلب اور تقاضہ ایک اضطراری اور غیر شعوری حالت ہے 


میں نے عرض کیا کہ انسان کے جسم کی حرارت غریزی اور رطوبت غریزی کی مثال چراغ کی بتی اور تیل کی سی ہے جو چراغ کے جلنے کو قائم رکھتے ہیں

 کبھی تیل کبھی ختم ہونے کبھی بتی جل جانے سے چراغ بجھ جاتا ہے


 اور یہی صورت انسانی جسم میں پائی جاتی ہے حرارت غریزی رطوبت غریزی ختم ہو کر انسانی زندگی کو فنا کرتی ہے 

اس لیے اگر انسان حرارت غریزی کی حفاظت کرتا رہے 

تو نہ صرف طبعی عمر کو پہنچتا ہے بلکہ امراض سے بھی محفوظ رہتا ہے اس کے قوی اور طاقتیں قائم رہتی ہیں 


اس حقیقت سے اکثر انسان ناواقف ہیں کہ حرارت کیسے پیدا ہوتی ہے اور رطوبت جو ہے وہ کیسے قائم رہتی ہے

 عام طور پر یہی ذہن نشین کر لیا گیا ہے

 کہ جو غذا وقت بے وقت کھائی جاتی ہے وہ ضرور خون اور طاقت بن جاتی ہے

 زیادہ سے زیادہ گرم یا مرغن اغزیہ  یا پروٹین کھا لینا کافی ہیں 

لیکن ایسی باتیں حقیقت سے بہت دور ہیں

 اگر اتنا سمجھ لینا کافی ہوتا تو 

ہر امیر ادمی انتہائی صحت مند ہوتا اور ان میں کوئی مرض نظر نہ اتا 

بلکہ اگر غور سے دیکھا جائے تو امیروں میں مریض زیادہ ہیں 

اور بھوکے فقیروں اور غریبوں میں تو مریض خصوصا پیچیدہ امراض کے مریض تو مشکل ہی سے نظر اتے ہیں


 اس سے ثابت ہوا کہ صرف غذا کا کھا لینا ہی صحت اور طاقت کے لیے کافی نہیں

 بلکہ اس کے لیے کچھ اصول بھی ہیں تاکہ وہ غذا جسم میں جا کر مناسب طور پر حرارت اور رطوبت کی شکل اختیار کر سکے 

اور وہاں خرچ ہو ایسا نہ ہو کہ بجائے مفید اور معاون اثرات کے مضر اور غیر معاون ثابت ہو کر مرض یا فنا کا باعث بن جائے

 یہی صحیح غذا کے استعمال اور غذایت سے مفید اثرات کے حاصل کرنے کو لازمی ہے راز ہے 



جیسا کہ میں نے اپ کو ایک چراغ کی مثال دی کہ چراغ 

میں اگر تیل ختم ہو جائے تب بھی وہ چراغ بجھ جائے گا

 اور چراغ کی اگر بتی ختم ہو جائے تب بھی چراغ بجھ جائے گا 

اگرچہ تیل موجود ہے 

اسی طرح بعض اوقات اگر تیل ضرورت سے زیادہ ہو جائے تب بھی چراغ بجھ جائے گا

 تو یہ تیل ضرورت سے زیادہ نہ ہو جائے اسی لیے غذا کو انسانی وجود میں جزو بدن بنانے کے لیے کچھ اصول مرتب کیے گئے ہیں 

اگر اپ ان اصولوں اور قواعد سے واقف نہیں ہیں تب بھی اپ کی زندگی میں بہت ساری مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں 

طاقت غذا میں ہے جاننا یہ چاہیے کہ انسانی جسم میں طاقت خصوصا قوت مردانہ کے کمال کا پیدا کرنا صرف مقوی اور اکثیر ادویات پر ہی منحصر نہیں ہے 

کیونکہ ادویات تو ہمارے جسم کی اعضاء کے افعال میں صرف تحریک اور تقویت اور تیزی پیدا کر سکتی ہیں

 لیکن وہ جسم میں بذات خود خون اور گوشت اور چربی نہیں بن سکتی ہیں 

کیونکہ یہ کام غذا کا ہے پس جب تک صحیح غذا کے استعمال کو اصولی طور پر مد نظر نہ رکھا جائے تو اکثیر سے اکثیر مقوی ادویات بھی اکثر بے سود ثابت ہوتی ہیں اگر ان کے مفید اثرات ظاہر بھی ہوں تو بھی غلط غذا سے بہت جلد ان کے اثرات ضائع ہو جاتے ہیں 



حصول قوت میں اغذیہ کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگائیں کہ حکماء اور  ڈاکٹروں نے تقویت کے لیے جو ادویات تجویز کی ہیں ان میں عام طور پر غذا کو زیادہ سے زیادہ شامل کیا ہے 

مثلا حلوہ جات ہریرہ جات یا وٹامنز اور خمیرہ جات وغیرہ شامل ہیں

 ان میں بھی زیادہ تیز قسم کی اغذیہ اور ادویات میں تبدیل کرنے کی صورت میں ملٹی وٹامن قسم کی ادویہ شامل ہیں کسی جگہ بھی ان میں غذائی اثرات کو نظر انداز نہیں کیا گیا

 یہی فن یا سائنس کا مدنظر بھی ہے جب بھی کوئی دوا وٹامنز بنائے جاتے ہیں ان کا منظور نظر بھی غذا کا حصول ہی ہوتا ہے 


ہم روزانہ زندگی میں جو پلاؤ زردہ وغیرہ یا دیگر خوراکیں مختلف شکلوں میں استعمال کرتے ہیں

 یہ سب کچھ اغذیہ کو ادویات سے ترتیب دے کر ان میں تقویت پیدا کی جاتی ہے

 اس طرح سوجی کی بنی ہوئی سویاں ڈبل روٹی حلوہ پراٹھے روٹی یہ سب کچھ طاقت کو مدد رکھ کر اتباع اور حکماء  نے ترتیب دیے ہیں یا ہماری روز مرہ کی روٹین میں یہ شامل ہیں یا ہمارے زور روز مرہ کے تجربات اور یقین میں شامل ہیں کہ یہی وہ اشیاء ہیں یا یہی وہ طریقہ کار ہے جن کے کھانے سے ہمیں صحت حاصل ہوگی یا ہمارے جسم میں  نشونما کا سلسلہ جاری رہے گا 

البتہ ان کے صحیح مقام استعمال کو جاننے اور مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے 


غذا کے صرف کھا لیتے ہی طاقت پیدا نہیں ہو جاتی بلکہ حقیقی طاقت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب غذا کھا لینے کے بعد صالح اور مقوی خون بن جاتا ہے صالح اور مقوی خون میں حرارت اور رطوبت ہوتی ہے جو حرارت عریزی اور رطوبت کی مدد کرتے ہیں حرارت غریزی اور رطوبت غریزی کا صحیح طور پر پیدائش افعال اثرات اور خواص وہ فوائد کچھ وہی لوگ سمجھتے ہیں یا سمجھ سکتے ہیں جنہوں نے قران حکیم میں مختلف مقامات پہ 

 ربوبیت اور رحمت کی حکمت و اہمیت اور افعال و اثرات اور خواص اور قواعد کو ذہن نشین کرنے کی کوشش کی ہے ان کو یہ شوق و جذبہ پیدا ہوا ہے کہ وہ زمانے میں ایک ربانی شخصیت بن جائے 


 بہرحال یہ ہر ایک کے لیے سہل کام نہیں ہے 

 تو کم از کم اس قدر ہی سمجھ لیں کہ صحت اور طاقت کا دارومدار صالح اور مقوی خون پر ہے اور خون سے بدن انسانی کو ہر قسم کی غذائیت اور قوت مل سکتی ہے اور ہماری غذا میں وہ تمام اجزاء شامل ہوتے ہیں جن سے صحت مند اور صالح خون پیدا ہو سکتا ہے 

جو انسان میں غیر معمولی طاقت پیدا کر دے بلکہ وہ طاقت اس کو شیر کے مقابلے میں کھڑا کر سکتی ہے 

 اس کے ثبوت میں اپ پہلوان باڈی بلڈنگ کرنے والوں کو دیکھ سکتے ہیں جو کبھی کوئی دوا کھا کر پہلوان نہیں بنتے بلکہ غذا کھا کر پہلوان بنتے ہیں البتہ ان کو اس بات کا علم ہوتا ہے کہ وہ کیسی غذا کھائیں اور اس کو کس طرح ہضم کریں 


اب تک کی باتوں سے جو نتیجہ اخذ ہوا ہے وہ یہ ہے کہ انسان کی زندگی کا دارومدار غذا کھانے اور پینے کے اشیاء ہوا اور روشنی اور انسانی وجود کی حرکت اور سکون اور انسانی نفس یعنی اندرونی حرکت اور سکون پر منحصر ہے جس میں نیند اور بیداری بھی شامل ہے 

اس کے ساتھ ساتھ انسانی وجود کے اندرونی نظام یعنی مدافتی جو نظام ہے جو انسان کے عمل دخل کے بغیر چل رہا ہے اس کا صحت مند ہونا اور درست ہونا بھی ضروری ہے تاکہ غذا جو انسانی وجود میں داخل ہوئی ہے یا ہوا اور روشنی سے جش فوائد حاصل ہوئے ہیں یا انسانی وجود کے حرکت اور سکون سے جو فوائد حاصل ہوئے ہیں یا انسانی نفسیات کی حرکت اور سکون سے جو فوائد حاصل ہوئے ہیں ان کو حاصل کر سکے اور جو غیر ضروری ہے اس فضلے کو انسانی وجود سے باہر خارج کر سکے اب انسانی وجود سے فضلات کے اخراج کا جو نظام ہے جس میں گردوں کا جو کردار ہے جس میں انتوں کا کچھ کردار ہے جس میں مثانے کا کردار ہے یعنی غدد ناقلہ اور غدد جاذبہ کو جو کردار ہے وہ بہت اہم ہے اسے سمجھنے کی ضرورت ہے مگر یہ کیونکہ ڈاکٹروں کے متعلق ہے اطباع کے متعلق ہے وہ عام ادمی کو سمجھنا ضروری نہیں ہے 

مگر عام ادمی کو جو بات سمجھنی ہے وہ یہ ہے کہ انسان کے لیے جو لازمی چیزیں ہیں اسے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے وجود کی ضرورت کون سی غذا ہے اور کتنی مقدار میں ہے یا اس کے وجود کو خوا کی یا روشنی کی ضرورت ہے اور کتنی مقدار میں ہے یا اس کے وجود کو حرکت اور سکون کی ضرورت ہے اور کتنی مقدار میں ہے یا اس کے وجود کو یعنی انسانی ذہن کو اندرونی طور پر نفسیاتی طور پہ سکون کی یا حرکت کی ضرورت ہے کیسی اور کتنی مقدار میں ہے یہ جاننا انسان کے لیے بہت ضروری ہے 

اگر یہ پانچ چھ چیزیں درست ہیں تب ہی انسان کا اندرونی نظام جسے ہم استفراغ یا احتباس کا نظام کہتے ہیں 

یعنی جاذبہ اور غدد  ناقلہ درست طور پر کام کریں گے اور جو ضروری چیزیں ہیں ان کو وجود میں روکیں گے اور جو غیر ضروری چیزیں ہیں انہیں وجود سے نکال کے باہر پھینکیں گے

 اگر ہمیں غذا کی افادیت یا ہمارے وجود میں اس کی ضرورت کا علم نہیں ہے تو ہم اکثر وہی چیز وہی غذائیں جو ہمیں فائدہ مند نظر ارہی ہیں جو ہم عام طور پہ فائدہ مند سمجھ کے کھا رہے ہیں وہ ہمارے لیے مصیبت کا سبب بن جاتی ہیں یا مرض کا سبب بن جاتے ہیں 


اپنی رائے کا ظہار کریں آپ کی رائے ہمارے لئیے بہت مفید ہے 


کریلا ایک کثیر فوائد سبزی

 

کریلا (Bitter Melon/Momordica charantia) اپنی افادیت کے لحاظ سے ایک بہترین سبزی ہے، جسے جدید سائنسی تحقیق نے بھی تسلیم کیا ہے۔ طبی نقطہ نظر سے اس کے اہم فوائد درج ذیل ہیں

1. شوگر (Diabetes) کو کنٹرول کرنے میں مددگار
کریلے کا سب سے مشہور فائدہ اس کا اینٹی ڈائیبیٹک اثر ہے۔ سائنسی تحقیق کے مطابق:
* اس میں Charantin" اور "Polypeptide-p" نامی مرکبات پائے جاتے ہیں جو انسولین کی طرح کام کرتے ہیں۔
* یہ خون میں گلوکوز کی سطح کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے، جس سے ذیابیطس کے مریضوں کو فائدہ ہوتا ہے۔
2. اینٹی آکسیڈینٹ سے بھرپور
کریلا طاقتور اینٹی آکسیڈنٹس کا مجموعہ ہے، جیسے کہ:
Catechin, Gallic acid, Epicatechic یہ مرکبات جسم میں موجود نقصان دہ فری ریڈیکلز (Free Radicals) کے خلاف لڑتے ہیں، جو سیلز کو تباہ کرنے اور بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔
* یہ جسم میں آکسیڈیٹو تناؤ (Oxidative Stress) کو کم کرکے عمر بڑھنے کے اثرات اور سوزش کو روکنے میں مددگار ہے۔
3. کولیسٹرول اور دل کی صحت
تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ کریلا کولیسٹرول کی سطح کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے:
* یہ خاص طور پر "خراب" کولیسٹرول (LDL) اور ٹرائگلیسرائیڈز (Triglycerides) کی سطح کو کم کرنے میں مؤثر ہے۔
* کولیسٹرول میں کمی کے باعث دل کی شریانوں میں رکاوٹ کا خطرہ کم ہوتا ہے اور دل کی مجموعی صحت بہتر رہتی ہے۔
4. وزن کم کرنے میں معاون
کریلا کم کیلوریز والی سبزی ہے لیکن فائبر سے بھرپور ہے:
* یہ ہاضمے کو بہتر بناتا ہے اور دیر تک پیٹ بھرا رہنے کا احساس دلاتا ہے، جس سے اضافی بھوک نہیں لگتی۔
* مختلف تجربات سے پتہ چلا ہے کہ یہ چربی کے خلیات (Fat cells) کے بننے کے عمل کو سست کر سکتا ہے۔
5. جلد اور بالوں کے لیے مفید
اس میں موجود وٹامن C اور دیگر اینٹی آکسیڈنٹس جلد کو صاف اور چمکدار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ جلد کے مسائل مثلاً کیل مہاسے (Acne) اور ایکزیما (Eczema) کے علاج میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ یہ خون کو صاف کرنے والی خصوصیات رکھتا ہے۔
6. کینسر کے خلاف ممکنہ اثرات
لیبارٹری ٹیسٹوں میں کریلے کے نچوڑ (Extract) نے کینسر کے خلیات (جیسے کہ معدہ، بڑی آنت، اور چھاتی کے کینسر) کی نشوونما کو روکنے میں مثبت نتائج دکھائے ہیں۔ تاہم، اس پر ابھی مزید انسانی کلینیکل ٹرائلز کی ضرورت ہے۔
*اہم نوٹ:*no
اگرچہ کریلا انتہائی مفید ہے، لیکن کچھ احتیاطی تدابیر ضروری ہیں:
*حاملہ خواتین:*
اسے کھانے سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ یہ بچہ دانی میں سکڑاؤ پیدا کر سکتا ہے۔
*ادویات:*
اگر آپ شوگر کی کوئی دوا لے رہے ہیں، تو کریلے کا زیادہ استعمال خون میں شوگر کی سطح کو بہت زیادہ گرا سکتا ہے (Hypoglycemia)، اس لیے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں۔

مالٹا کنوں یا نارنجی کے فوائد


ترش پھل
 فوائد، نقصانات اور استعمال کا درست طریقہ



تمام ترش پھل اپنے مزاج کے حساب سے ٹھنڈے ہیں سردی خشکی پیدا کرتے ہیں

یہ گرمی کے امراض مثلاً

یرقان کی تمام اقسام

اور تری سردی کے امراض

مثلآ لو بلڈ پریشر کو یہ نارمل کرتے ہیں

ذہنی تناؤ کو کم کرتے ہیں

قدرت نے ہمیں موسم سرما میں سٹرس (Citrus) خاندان کے پھلوں جیسے مالٹا، کنو، فروٹر اور لیموں سے نوازا ہے۔ یہ پھل نہ صرف ذائقے میں لاجواب ہیں بلکہ طبی اعتبار سے بھی بے شمار خصوصیات کے حامل ہیں۔ آج کے بلاگ میں ہم نظریہ مفرد اعضاء کی روشنی میں ان پھلوں کے انسانی جسم پر اثرات کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔

طبی مزاج اور جسمانی اثرات

نظریہ مفرد اعضاء کے مطابق، یہ تمام ترش پھل

"عضلاتی اعصابی" (سرد خشک)

تحریک پیدا کرتے ہیں۔ یہ جسم میں سودا خام (خام سوداوی مادے) کی پیداوار کا باعث بنتے ہیں۔ اسی لیے ان پھلوں کا بے دریغ استعمال جسم میں خشکی، گیس اور قبض پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔

کن امراض میں یہ مفید ہیں؟

اپنے مزاج کے لحاظ سے یہ پھل درج ذیل امراض میں انتہائی فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں:


اعصابی عضلاتی امراض:

یہ پھل ان امراض میں انتہائی مفید ہیں جن میں جسم میں گرمی اور صفرا کی زیادتی ہو۔ یہ جسم کی فالتو گرمی کو تحلیل کر کے سکون پہنچاتے ہیں۔
(بلڈ شوگر (ذیابیطس)
شوگر کے مریضوں کے لیے یہ ایک بہترین تحفہ ہیں۔ یہ خون میں شوگر کی سطح کو کنٹرول کرنے اور انسولین کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں
کینسر: ؟
جدید تحقیق اور قدیم حکمت دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ ان پھلوں میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس کینسر کے خلیات کے خلاف لڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے یہ اس موذی مرض میں انتہائی مفید ہیں۔
اہم احتیاطی تدابیر
ہر پھل کے فائدے کے ساتھ اس کے نقصانات سے بچنا بھی ضروری ہے۔ چونکہ ان کا مزاج خشک ہے، اس لیے:
بواسیر کے مریضوں کے لیے:
بواسیر کے مریضوں کو ان پھلوں سے پرہیز کرنا چاہیے، کیونکہ ان کی خشکی بواسیر کے درد اور مسوں میں سوزش کا باعث بن سکتی ہے۔
استعمال کا بہترین طریقہ:
ان پھلوں کی خشکی اور سردی کو توڑنے کے لیے سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان پر **ہلکا سا نمک چھڑک کر استعمال کیا جائے**۔ نمک کی حرارت ان پھلوں کے ترش اثرات کو متوازن کرتی ہے، جس سے نہ صرف ان کا ذائقہ بہتر ہوتا ہے بلکہ یہ ہاضمے کے لیے بھی زیادہ موزوں ہو جاتے ہیں۔
خلاصہ
اگر آپ تندرست ہیں تو ان پھلوں کا اعتدال میں استعمال آپ کو کینسر اور شوگر جیسے امراض سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ تاہم، قبض یا بواسیر کے شکار افراد کو ان کے استعمال میں خاص احتیاط برتنی چاہیے۔
ڈاکٹر محمد شاہ غر شین:
چیف ایڈیٹر، السادات نیوز


گیس اپھارہ بدہضمی بواسیر ہائی بلڈ پریشر کی بڑی وجہ ہیں

معدہ درست تو زندگی خوشگوار 





بلڈ پریشر سے نجات کا قدرتی راستہ آج کے مشینی دور میں جہاں سہولیات بڑھی ہیں، وہاں بیماریوں نے بھی ڈیرے ڈال لیے ہیں۔ آج ہر دوسرا شخص، چاہے وہ جوان ہو یا بوڑھا، بلڈ پریشر کی گولیوں کا محتاج نظر آتا ہے۔ لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا کہ یہ بلڈ پریشر آخر بڑھتا کیوں ہے؟

 حقیقت تو یہ ہے کہ بلڈ پریشر بذاتِ خود کوئی بیماری نہیں، بلکہ یہ ایک **سگنل** ہے کہ آپ کا نظامِ ہاضمہ یعنی معدہ بگڑ چکا ہے۔

 جب ہم اس سگنل کو دبانے کے لیے ایلوپیتھک ادویات کا سہارا لیتے ہیں، تو عارضی سکون تو مل جاتا ہے مگر یہی ادویات وقت گزرنے کے ساتھ جوڑوں کے درد، گردوں کی کمزوری اور معدے کی مزید خرابی کا باعث بنتی ہیں۔

 اگر آپ واقعی ایک صحت مند زندگی گزارنا چاہتے ہیں، تو علاج بیماری کا نہیں بلکہ اس کی "وجہ" کا کریں۔ آئیے آپ کو ایک ایسا قدرتی نسخہ بتاتے ہیں جو آپ کے معدے کو فولاد بنائے گا اور بلڈ پریشر کو قدرتی طور پر نارمل سطح پر لے آئے گا۔ 

 شفا بخش قدرتی نسخہ 

اس نسخے کی خاص بات یہ ہے کہ یہ سادہ، بے ضرر اور انتہائی مؤثر ہے۔ 

 اجزاء

 1. دیسی پودینہ 15 سے 20 گڈیاں (یاد رہے کہ پودینہ فارمی نہ ہو)۔

 2. چھوٹی الائچی 

 (وزن پودینے کی سوکھی پتیوں کے برابر)۔ 3. 

سونف: 

 (وزن پودینے کی سوکھی پتیوں کے برابر) تیاری کا طریقہ پودینے کو اچھی طرح دھو کر مٹی صاف کر لیں اور صرف پتیاں الگ کر لیں۔ 

ان پتیوں کو دھوپ کے بجائے سائے میں خشک کریں۔ جب پتیاں مکمل خشک ہو جائیں تو ان کا وزن کر لیں۔ اب جتنا وزن پودینے کا ہے، اتنی ہی مقدار میں چھوٹی الائچی

 (چھلکے سمیت) اور سونف شامل کر لیں۔ 

ان تینوں چیزوں کو باریک پیس کر سفوف بنا لیں اور کسی شیشے کے جار میں محفوظ کر لیں۔

 استعمال کا طریقہ: 

صبح اور شام کھانے کے بعد ایک چائے کا چمچ یہ سفوف منہ میں ڈالیں۔ اسے فوراً نگلنے کے بجائے کچھ دیر چبائیں تاکہ آپ کے منہ کا لعاب (Saliva) اس میں شامل ہو جائے، پھر ایک گھونٹ پانی سے نگل لیں۔ 

 پرہیز: 

جو علاج سے بہتر ہے دوا اسی وقت اثر کرتی ہے جب ہم ان چیزوں سے دوری اختیار کریں جو بیماری پیدا کر رہی ہیں۔ اپنی زندگی سے ان چار سفید زہروں کو نکال باہر کریں:

 ریفائنڈ نمک اس کی جگہ قدرتی لاہوری نمک استعمال کریں۔ سفید چینی اس کی جگہ گڑ یا دیسی شکر اپنائیں۔ سفید آٹا فائن آٹے کے بجائے چکی کا آٹا اور جو کا آٹا ہم وزن ملا کر استعمال کریں۔

 عام کوکنگ آئل بازار میں ملنے والے پروسیسڈ آئل چھوڑ کر سرسوں، زیتون، تل یا ناریل کا تیل استعمال کریں۔ 

ایک مخلصانہ مشورہ یاد رکھیں، تندرستی ایک نعمت ہے جس کی قدر بیماری آنے سے پہلے کرنی چاہیے۔ یہ نسخہ نہ صرف آپ کے بلڈ پریشر کو قابو میں رکھے گا بلکہ آپ کے معدے کو وہ توانائی دے گا کہ آپ خود کو چاق و چوبند محسوس کریں گے۔ قدرت کی طرف لوٹ آئیں، کیونکہ اصل شفا قدرتی خزانوں میں ہی چھپی ہے۔

تھائیرائیڈ کی انفیکشن اور حل

    تھائیرائیڈ کیا ہے؟ 



تھائیرائیڈ ہماری گردن میں سامنے کی طرف تتلی کی شکل کا ایک چھوٹا سا غدود ہے۔ اس کا کام ایسے ہارمونز بنانا ہے جو ہمارے جسم کے کام کرنے کی رفتار یعنی میٹابولزم کو کنٹرول کرتے ہیں۔ جب یہ غدود ضرورت سے زیادہ کام کرنے لگے یا سست ہو جائے تو صحت کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

 تھائیرائیڈ کی دو بڑی قسمیں اور ان کی پہچان

 تھائیرائیڈ کی کمی (سستی) اس صورت میں جسمانی نظام سست پڑ جاتا ہے۔ انسان ہر وقت تھکا ہوا اور سست محسوس کرتا ہے۔ بغیر زیادہ کھائے وزن تیزی سے بڑھنے لگتا ہے، قبض کی شکایت رہتی ہے، جلد خشک ہو جاتی ہے اور بال گرنے لگتے ہیں۔ ایسے مریض کو سردی بھی زیادہ لگتی ہے۔

 تھائیرائیڈ کی زیادتی (تیزی) اس میں جسمانی نظام ضرورت سے زیادہ تیز ہو جاتا ہے۔ وزن تیزی سے کم ہونے لگتا ہے، دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے اور ہاتھ پاؤں کانپنے لگتے ہیں۔ مریض کو بہت زیادہ پسینہ آتا ہے، گرمی برداشت نہیں ہوتی اور طبیعت میں چڑچڑاپن آ جاتا ہے۔ 

 بیماری کی وجوہات غذا میں آیوڈین کا توازن بگڑنا، مسلسل ذہنی تناؤ، موروثی اثرات یا جسم کے مدافعتی نظام کی خرابی اس مرض کی بڑی وجوہات ہیں۔ طبی نقطہ نظر سے جسم میں رطوبت، خشکی یا حرارت کا غیر متوازن ہونا ان مسائل کو جنم دیتا ہے۔ دیسی اور قدرتی علاج خشک دھنیا تھائیرائیڈ کے مریضوں کے لیے خشک دھنیا ایک بہترین قدرتی تحفہ ہے۔ دو چمچ دھنیا ایک گلاس پانی میں ابال کر جب پانی آدھا رہ جائے تو نہار منہ پینا بہت فائدہ مند ہے۔

 ناریل کا تیل اور اخروٹ ناریل کا تیل 

جسم کی سستی دور کر کے میٹابولزم کو بہتر بناتا ہے۔ اخروٹ غدود کی سوزش کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ السی کے بیج السی کے بیجوں کو ہلکا بھون کر پیس لیں اور روزانہ ایک چمچ استعمال کریں۔ یہ غدود کی کارکردگی کو متوازن رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ کچنار کچنار کی چھال خاص طور پر گردن کی رسولیوں اور تھائیرائیڈ کی گلٹھیوں کے لیے صدیوں سے آزمودہ علاج ہے۔

 قانونِ مفرد اعضاء کے مطابق تشخیص و علاج

 حکیم صابر ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کے نظریے کے مطابق تھائیرائیڈ کا علاج نبض کی تشخیص کے بعد ہی ممکن ہے۔

 اگر جسم میں تری اور بلغم زیادہ ہو (اعصابی تحریک) جس سے وزن بڑھ رہا ہو، تو خشک گرم اشیاء (لونگ، دار چینی، جلوتری) سے علاج کیا جاتا ہے۔

 ۲۔ اگر جسم میں خشکی اور تیزابیت بڑھ جائے (عضلاتی تحریک) اور گردن پر گلٹھی بن جائے،

 تو گرم خشک اشیاء (اجوائن، تیز پات، رائی) سے خشکی ختم کی جاتی ہے۔ ۳

۔ اگر جسم میں گرمی اور صفراء کی زیادتی ہو (غدی تحریک) جس سے وزن گر رہا ہو، تو

 تر گرم اشیاء (سہاگہ، ملٹھی، ریوند خطائی) سے حرارت کو اعتدال پر لایا جاتا ہے۔

 ضروری احتیاط کوئی بھی علاج شروع کرنے سے پہلے خون کا ٹیسٹ (TSH) کروانا اور کسی ماہر معالج سے نبض دکھانا بہت ضروری ہے تاکہ مرضکی درست قسم کے مطابق دوا کا انتخاب کیا جا سکے۔  

بچے بستر پر پیشاب کیوں کرتے ہیں ؟

 



​بچوں میں بستر پر پیشاب کی شکایت

اسباب، نفسیاتی پہلو اور موثر غذائی علاج


​بچوں کا رات کو سوتے ہوئے بستر پر پیشاب کر دینا (Bedwetting) والدین کے لیے ایک پریشان کن مسئلہ ہوتا ہے۔ طبی اصطلاح میں اسے 'اینوریسس' (Enuresis) کہا جاتا ہے۔ اکثر اسے محض ایک عادت سمجھا جاتا ہے، جبکہ حقیقت میں اس کے پیچھے مخصوص جسمانی رطوبات کا غلبہ اور اعصابی نظام کی کیفیات کارفرما ہوتی ہیں۔

​ذیل میں ہم ان اسباب اور ان کے حل کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔

​بستر پر پیشاب کرنے کے بنیادی اسباب

​بچوں میں اس شکایت کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں سے اہم درج ذیل ہیں:

​مثانہ کے عضلات کی کمزوری: جب مثانے کے پٹھے اتنے مضبوط نہیں ہوتے کہ وہ پیشاب کو روک سکیں، تو نیند کی حالت میں اخراج ہو جاتا ہے۔

​غددِ جاذبہ کی کمزوری: جسم میں رطوبات کو جذب کرنے والے غدود جب سست پڑ جائیں تو پیشاب کی پیداوار بڑھ جاتی ہے۔

​شدید سردی یا ٹھنڈک: موسمی اثرات یا ٹھنڈی غذاؤں کے استعمال سے گردوں کی تحریک بڑھ جاتی ہے۔

​پیشاب کی کثرت: جسم میں رطوبات کا زیادہ بننا اور اخراج کی صلاحیت کا کم ہونا۔

​مزاج اور نفسیات کا کردار

​طبِ یونانی اور جدید مشاہدات کے مطابق، بچہ 7 سال کی عمر تک اعصابی مزاج رکھتا ہے۔ اس عمر میں جسم میں 'سرد تر' کیفیت اور رطوبات کا غلبہ ہوتا ہے۔

​گہری نیند کا اثر: اعصابی مزاج میں نیند بہت گہری آتی ہے۔ جب مثانے پر پیشاب کا دباؤ بڑھتا ہے، تو بچہ گہری نیند کی وجہ سے بیدار نہیں ہو پاتا۔

​طبیعتِ مدبرہ اور لاشعور: اس مرحلے پر انسانی جسم کا دفاعی نظام (طبیعتِ مدبرہ) خواب میں ایسے مناظر تخلیق کرتا ہے (مثلاً بچہ خود کو واش روم میں دیکھتا ہے) جس سے وہ لاشعوری طور پر بستر پر ہی پیشاب کر دیتا ہے۔

​موثر غذائی حل

​اس مسئلے کا پائیدار حل اسباب کو ختم کرنے میں پوشیدہ ہے۔ درج ذیل طریقہ کار اپنا کر محض 15 دن میں مثبت نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں:

​1. رات کی خوراک میں تبدیلی

​بچے کو رات کے وقت ٹھنڈی تاثیر رکھنے والی چیزیں (جیسے دودھ، چاول یا ٹھنڈے مشروبات) دینے سے گریز کریں۔

​ابلا ہوا انڈہ: رات کو بچے کو ایک ابلا ہوا انڈہ نمک لگا کر دیں۔ یہ جسم میں گرمائش پیدا کرتا ہے، سردی کو کم کرتا ہے اور غددِ جاذبہ کو مضبوط بنا کر پیشاب کی کثرت کو روکتا ہے۔

​2. مقوی عضلات قہوہ

​ادرک اور دارچینی کا قہوہ عضلات کو طاقت دینے کے لیے بہترین ہے۔

​فائدہ: یہ قہوہ 'حابس' (روکنے والا) صفت رکھتا ہے، جو پیشاب کی زائد پیدائش کو کنٹرول کرتا ہے اور مثانے کے پٹھوں کو مضبوط بناتا ہے۔

​3. معدنیات کا استعمال (طبی مشورہ)

​بچے کی عمومی صحت اور اعصابی مضبوطی کے لیے کیلشیم اور فولاد (Iron) کے مرکبات کا استعمال نہایت مفید ہے۔ اس سے نہ صرف بستر پر پیشاب کی شکایت دور ہوتی ہے بلکہ بچے کی رنگت اور جسمانی توانائی میں بھی نمایاں بہتری آتی ہے۔

​بچوں کے اس مسئلے کو ڈانٹ ڈپٹ کے بجائے محبت اور درست غذا سے حل کریں۔ اگر آپ 15 دن تک اوپر بتائے گئے غذائی چارٹ پر عمل کریں، تو ان شاء اللہ بچہ اس شکایت سے مکمل نجات پا لے گا۔

​تحریر: ماہرِ غذائیت (غذا سے شفا)

ڈاکٹر محمد شاہ غرشین 

بارش کے پانی میں شفاء ہے


بارش کے پانی میں شفاء




 اسلامی تعلیمات اور جدید سائنس کی روشنی میں
بارش اللہ تعالیٰ کی وہ عظیم نعمت ہے جسے قرآن مجید میں "مبارک" اور "طہور" (پاک کرنے والا) کہا گیا ہے۔
 یہ نہ صرف زمین کی پیاس بجھاتی ہے بلکہ اس میں انسانی جسم اور روح کے لیے بے شمار فوائد چھپے ہوئے ہیں۔
اسلامی نقطہ نظر اور روحانی شفاء
اسلامی روایات میں بارش کے پانی کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ نبی کریم ﷺ بارش کے شروع ہوتے ہی اپنے کپڑے تھوڑے ہٹاتے تاکہ بارش کا پانی جسم کو چھو سکے، اور فرماتے 
یہ ابھی ابھی اپنے رب کے پاس سے آرہی ہے (یعنی اس میں اللہ کی رحمت تازگی ہے)
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا ارشاد
آپ نے جو حوالہ دیا ہے، اس کی بنیاد قرآن کی آیت کی برکت پر ہے۔ حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ
 جب تم میں سے کوئی شفاء چاہے تو اسے چاہیے کہ قرآن کی کوئی آیت کسی پلیٹ پر لکھے، پھر اسے بارش کے پانی سے دھوئے، اور اپنی بیوی کے مہر (جو اسے خوشی سے ملا ہو) سے ایک درہم لے کر اس سے شہد خریدے اور اسے اس پانی میں ملا کر پیے، تو بے شک اس میں شفاء ہے
 اس عمل میں تین مبارک چیزیں جمع ہو جاتی ہیں
 قرآن کی برکت (جو خود شفاء ہے)
 2بارش کا پانی (جسے اللہ نے مبارک کہا ہے)۔
 3. شہد(جس کے بارے میں قرآن میں صریحاً شفاء کا ذکر ہے)۔
 سائنسی نقطہ نظر (Scientific Perspective)
جدید سائنس بھی بارش کے پانی کی افادیت کو تسلیم کرتی ہے، بشرطیکہ وہ آلودگی سے پاک علاقے میں حاصل کیا گیا ہو:
 خالص ترین پانی بارش کا پانی قدرتی طور پرڈسٹل واٹر (Distilled Water) کی ایک شکل ہے جس میں کیمیکلز (جیسے کلورین یا فلورائڈ) نہیں ہوتے جو عام طور پر نلکے کے پانی میں پائے جاتے ہیں۔
 * **الکلائن خصوصیات (Alkaline Nature) بارش کے پانی کی pH لیول متوازن ہوتی ہے، جو جسم میں تیزابیت (Acidity) کو کم کرنے اور زہریلے مادوں (Detoxification) کے اخراج میں مدد دیتی ہے۔
 جلد اور بالوں کے لیے مفید چونکہ اس میں منرلز کا بوجھ کم ہوتا ہے (Soft Water)، اس لیے یہ جلد کے مساموں کو صاف کرنے اور بالوں کی قدرتی چمک بحال کرنے کے لیے بہترین مانا جاتا ہے۔
 منفی آئنز (Negative Ions  بارش کے دوران فضا میں منفی آئنز کی مقدار بڑھ جاتی ہے، جو انسانی موڈ کو خوشگوار بنانے، تناؤ (Stress) کم کرنے اور نظامِ تنفس کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔
احتیاطی تدابیر
آج کے دور میں فضائی آلودگی کی وجہ سے ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ
 1. بارش شروع ہونے کے پہلے 15-20 منٹ کا پانی استعمال نہ کریں (کیونکہ اس میں فضا کی دھول اور آلودگی شامل ہو سکتی ہے)۔
 2. اس کے بعد صاف برتن میں جمع کیا گیا پانی پینے یا علاج کے لیے بہترین ہے
محفوظ ترکیب استعمال ؛
بارش کے پانی کو کسی برتن میں جمرہ کریں 
40 منٹ رکھ دیں تاکہ اس کے اندر مٹی وغیرہ نیچے بیٹھ جائے پھر اس پانی کو اپر کا حصہ الگ کر لیں کو صاف ہے  اب اس کو کسی صاف برتن میں ڈال کر آگ پر جوش دیں سے لکڑی کی تو زیادہ بہتر ہے پھر اسے اتار کر ٹھنڈا کریں اس کے نیچے بھی کچھ ذرات ہونگے سان کو الگ کر لیں پھر اس صاف پانی میں شہد ڈال کر پلائیں اگر دستیاب ہو تو آب زم زم شامل کریں کچھ یہ پر مرض سے شفاء ہے 
خالصہ کلام 
بارش کا پانی محض ایک قدرتی عمل نہیں بلکہ اللہ کی رحمت کا نزول ہے۔ حضرت علیؓ کا بتایا ہوا طریقہ روحانی تسکین کا باعث ہے، جبکہ سائنس اس کی صفائی اور الکلائن خصوصیات کی معترف ہے۔ اپنے طرزِ زندگی میں اس قدرتی تحفے کی قدر کرنا سنتِ نبوی ﷺ بھی ہے اور صحت کے لیے مفید ب


سیرتِ طیبہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصول زندگی میں امن سلامتی کے ضامن ہیں


آج کا انسان ہر آسائش کے باوجود ایک عجیب سی بے چینی، نامعلوم خوف اور گھٹن کا شکار ہے۔ ہم نے مادیت کی دوڑ

 میں جسم کو تو محلوں میں سجا لیا

مگر روح کو اندھیروں میں چھوڑ دیا۔ سچ تو یہ ہے کہ آج کا سب سے بڑا مرض کینسر یا شوگر نہیں، بلکہ وہ "ذہنی کرب" ہے جسے ہم ڈپریشن اور اسٹریس کہتے ہیں۔ آئیے! اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں کہ ہم سے کہاں غلطی ہوئی اور اس اندھیرے سے نکلنے کا راستہ کیا ہے۔ چڑیا جیسا دل: جنت کی ضمانت اور ذہنی صحت امام غزالیؒ نے نبی کریم ﷺ کی ایک نہایت پیاری حدیث نقل فرمائی ہے کہ: "جنت میں وہ لوگ داخل ہوں گے جن کے دل چڑیا کے دل کی طرح (نرم اور نازک) ہوں گے۔" ذرا غور کریں! ایک ننھی سی چڑیا کا دل کتنا صاف ہوتا ہے۔


 نہ اس میں کل کی فکر ہے، نہ کسی سے حسد، نہ کسی کے خلاف بغض اور نہ ہی کوئی لمبی چوڑی لالچ۔ وہ اپنے رب پر توکل کر کے اڑتی ہے اور شام کو مطمئن لوٹتی ہے۔ 

آج ہمارے ذہنی تناؤ کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ ہمارا دل "سخت" ہو چکا ہے۔ ہم حسد کی آگ میں جل رہے ہیں، غیبت کی عادت نے ہماری روح کو میلا کر دیا ہے اور ہم نے معاف کرنا چھوڑ دیا ہے۔ جس دن ہمارا دل چڑیا جیسا "نرم" ہو گیا، اسی دن ڈپریشن ہمارے قریب آنے سے بھی ڈرے گا۔ سیرتِ طیبہ ایک معطر زندگی کا آئینہ ہم نمازیں تو پڑھتے ہیں، روزے بھی رکھتے ہیں، مگر کیا ہمارے اخلاق وہی ہیں جو ہمارے نبی محمد رسول اللہ ﷺ کے تھے؟ 


 آپ ﷺ نے کبھی کسی کی غیبت نہیں کی، کبھی کسی پر بہتان نہیں لگایا۔ آپ ﷺ نے کبھی وعدہ خلافی نہیں کی اور نہ ہی کسی کا حق مارا۔ آپ ﷺ کی زبان مبارک سے کبھی تلخ لفظ نہیں نکلا اور نہ ہی آپ ﷺ نے کبھی اپنی تعریف خود کی۔ آپ ﷺ سادگی کی انتہا پر تھے، کبھی ضرورت سے زیادہ نہیں کھایا اور ہمیشہ صاف ستھرے رہے۔ آج کا مسلمان مسجد میں تو سجدہ کرتا ہے، مگر باہر نکل کر جھوٹ، ملاوٹ، سودی کاروبار اور لوگوں کا دل دکھانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا۔ یاد رکھیں! 

جب تک ہم نبی ﷺ کی ان سنتوں کو نہیں اپنائیں گے، ہماری عبادات ہمیں وہ سکون نہیں دے سکیں گی جس کی ہمیں تلاش ہے۔ آیاتِ کتب: غم کے اندھیروں میں امید کا نور قرآن مجید کی دو عظیم آیات ایسی ہیں جنہیں "آیاتِ قطب" کہا جاتا ہے (سورہ آل عمران آیت 154 اور سورہ فتح آیت 29)۔ ان آیات کی خاص بات یہ ہے کہ ان میں عربی کے تمام حروفِ تہجی موجود ہیں، جو ایک مکمل کائنات کی تاثیر رکھتے ہیں۔ قرآن کریم مکمل حروف ان میں موجود ہیں عقل مند کو اشارہ کافی ہے یہ آیات قطب الاقتاب قلندر کا وظیفہ ہیں جب انسان شدید خوف اور ڈپریشن میں گھرا ہو، تو آیت 154 (سورہ آل عمران) اسے یاد دلاتی ہے کہ کیسے اللہ نے احد کے تھکے ہارے مجاہدین پر "امن کی اونگھ" نازل کر کے ان کے سارے غم دھو دیے تھے۔ 

یہ آیت بتاتی ہے کہ کائنات کا ہر فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے، پھر پریشانی کیسی؟ اسی طرح آیت 29 (سورہ فتح) صحابہ کی اس مضبوطی کا ذکر کرتی ہے جیسے ایک توانا کھیتی اپنے تنے پر کھڑی ہو جائے۔ یہ آیت انسان کے اندر وہ ہمت پیدا کرتی ہے کہ وہ دنیا کے سامنے جھکنے کے بجائے صرف اپنے رب کے سامنے سجدہ ریز ہو۔ شفا اور برکت کا خاص معمول اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی جان و مال محفوظ رہے، رزق میں برکت ہو اور ذہنی امراض سے نجات ملے، تو اس نبوی نسخے کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں: روزانہ صبح و شام: سات مرتبہ درود شریف کے ساتھ ان دونوں آیات (آل عمران 154 اور الفتح 29) کی تلاوت کریں۔ برکت کی دعا: سات مرتبہ یہ دعا پڑھیں


 اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ

 اخلاقی عہد: عہد کریں کہ آج سے نہ کسی کی غیبت کریں گے، نہ حسد کریں گے اور نہ ہی کسی کا دل دکھائیں گے۔ خلاصہِ کلام شفا صرف ادویات میں نہیں، بلکہ اپنے عمل کی اصلاح میں ہے۔ 

اگر ہم نبی کریم ﷺ کی ان سنتوں پر سختی سے عمل کریں اور ان قرآنی آیات کو اپنا وظیفہ بنا لیں، تو ہمارا معاشرہ امن، محبت اور برکت کا گہوارہ بن جائے گا۔ آئیے! آج سے ہی اپنے دل کو چڑیا جیسا نرم بنائیں اور اپنے رب کی رحمتوں کے سائے میں پناہ لیں اب جس شخص کو زندگی میں آخرت میں کامیابی چاہیے امن سلامتی سکون چاہیے  اور وہ خوف سے نجات چاہتا ہے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے در پر حاضری اور قرآن کریم کے دامن میں آنا پڑیگا 






خنزیر کا گوشت اور شراب امرض قلب اور جگر کی بڑی وجہ

 

خنزیر کا گوشت ,شراب ہارٹ بلاکیج امراض 

جگر اور اخلاقی زوال کی سب سے بڑی وجہ



کائنات کے خالق اور انسان کو مٹی کے گارے سے تخلیق کرنے والے رب نے جب انسان کو زمین پر اپنا خلیفہ مقرر کیا تو اسے "اشرف المخلوقات" کے لقب سے نوازا۔ یہ اعزاز اور شرف محض جسمانی ساخت کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس "غیرت" اور "حیا" کی بنیاد پر ہے جو انسان کو حیوانات سے ممتاز کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو نہ صرف جسمانی امراض سے بچانا چاہتا ہے بلکہ اس کے اس وقار اور اعزاز کو بھی قائم رکھنا چاہتا ہے جو اس کی انسانیت کی بنیاد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے خنزیر اور شراب کو قطعی طور پر حرام قرار دیا، کیونکہ یہ دونوں چیزیں انسانی صحت، اس کی عقل اور اس کے بلند اخلاقی کردار کی جڑیں کھوکھلی کر دیتی ہیں۔
1 قرآنی حکمت اور تخلیقِ انسانی کا اعزاز
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا واضح ارشاد ہے کہ "وہ ان کے لیے پاکیزہ چیزوں کو حلال کرتا ہے اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام قرار دیتا ہے"۔ خنزیر کے لیے قرآن نے "رجس" کا لفظ استعمال کیا ہے جس کے معنی انتہائی گندگی اور غلاظت کے ہیں۔ 
انسان کو پیدا کرنے والا رب بہتر جانتا ہے کہ کون سی غذا اس کے بنائے ہوئے شاہکار یعنی انسانی جسم اور روح کے لیے موزوں ہے۔ 
یہ مہم اس حقیقت کو واضح کرنے کے لیے ہے کہ حرمت کا یہ حکم محض ایک پابندی نہیں بلکہ انسان کے اپنے شرف، اس کی عزت اور اس کی نسلوں کی بقا کا ضامن ہے۔ ربِ ذوالجلال چاہتا ہے کہ اس کا بندہ ان غلیظ غذاؤں سے پاک رہے جو اسے درندگی اور بے حیائی کی طرف لے جاتی ہیں۔
2 غیرتِ انسانی اور حیوانات کا فطری تقابل
انسانی شرف کا سب سے بڑا تقاضا اس کی وہ "غیرت" ہے جس کی بدولت وہ اپنے رشتوں کا تحفظ کرتا ہے اور اپنی مادہ یا شریکِ حیات کو کسی دوسرے کے ساتھ بانٹنا اپنی موت تصور کرتا ہے۔ یہی وہ فطرت ہے جو کائنات کے دیگر غیرت مند جانوروں جیسے شیر، بھیڑیے اور عقاب میں بھی رکھی گئی ہے۔ سائنسی مشاہدات اور جنگلی حیات کی تحقیق یہ ثابت کرتی ہے کہ بھیڑیا ایک انتہائی غیرت مند اور وفادار جانور ہے۔ 
اگر بھیڑیے کی مادہ مر جائے تو وہ اپنی پوری زندگی کسی دوسری مادہ کے ساتھ جفتی نہیں کرتا، یہ وفاداری کا وہ معیار ہے جو فطرت ہمیں سکھاتی ہے۔
 اسی طرح بلا اپنے علاقے میں کسی دوسرے نر کے بچوں کو برداشت نہیں کرتا کیونکہ وہ اپنی حاکمیت اور غیرت پر سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔
3 خنزیر کی ذلیل فطرت اور اخلاقی انحطاط
ان تمام جانوروں کے برعکس خنزیر دنیا کا وہ واحد اور غلیظ ترین جانور ہے جس میں غیرت اور حیا کا مادہ سرے سے موجود ہی نہیں۔ خنزیر کی یہ جبلت اور فطرت ہے کہ جب وہ مادہ پر چڑھتا ہے تو کئی دوسرے نر ایک قطار بنا کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایک نر اترتا ہے تو دوسرا فوراً اس کی جگہ لے لیتا ہے اور یہ عمل اسی طرح جاری رہتا ہے۔ اس جانور میں اپنی مادہ کے لیے "ملکیت" یا "وفا" کا کوئی احساس نہیں پایا جاتا۔
 جب انسان اس جانور کا گوشت مسلسل استعمال کرتا ہے تو اس کی یہ بے غیرتی اور بے حسی انسانی خون اور خلیات کا حصہ بننے لگتی ہے، جس سے انسان کے اندر موجود وہ فطری غیرت مر جاتی ہے جو اسے اپنی ماں، بہن اور بیٹی کے تقدس کا احساس دلاتی ہے۔
4 مغربی معاشرے کا المیہ اور غذا کے اثرات
آج مغرب میں جہاں خنزیر کا گوشت اور شراب روزمرہ کی غذا کا حصہ بن چکے ہیں، وہاں خاندانی نظام اور انسانی شرف کی تباہی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ شراب انسان سے اس کا ہوش و حواس چھین لیتی ہے اور خنزیر کا گوشت اس کی فطری غیرت کو ختم کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان معاشروں میں "وائف سویپنگ" (بیویوں کا تبادلہ) اور دیگر شرمناک حرکات کو برا نہیں سمجھا جاتا۔ انسان کا شرف تو یہ تھا کہ وہ اپنی محبوبہ یا بیوی کے لیے جیتا اور اس کے تقدس کی خاطر جان دے دیتا، لیکن ان غلیظ غذاؤں نے انسان کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں وہ حیوانوں سے بھی بدتر ہو چکا ہے۔ کتا، بلی یا گائے کا نر بھی اپنی ماں یا بہن پر نہیں چڑھتا، لیکن ان غذاؤں کے زیرِ اثر انسان رشتوں کی تمیز بھی کھو چکا ہے۔
5 طبی تحقیقات اور ہارٹ بلاکیج کے اسباب
حکیم انقلاب صابر ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیقات اور جدید میڈیکل سائنس اس بات پر متفق ہیں کہ خنزیر کا گوشت انسانی صحت کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ یہ گوشت جسم میں سوداویت اور تعفن پیدا کرتا ہے اور خون کو انتہائی غلیظ اور سرد خشک (عضلاتی اعصابی) کر دیتا ہے۔ اس میں موجود کولیسٹرول کی اتنی بڑی مقدار پائی جاتی ہے جو انسانی جسم کا درجہ حرارت پگھلانے میں ناکام رہتا ہے، جس کے نتیجے میں یہ چربی شریانوں میں جم جاتی ہے اور "ہارٹ بلاکیج" کا سب سے بڑا سبب بنتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ معدے اور آنتوں میں ایسے خطرناک کیڑے پیدا کرتا ہے جو انسانی اعصاب کو کمزور کر دیتے ہیں اور دائمی تبخیرِ معدہ کا شکار بنا دیتے ہیں۔
6 سیکسی جذبات کا بھڑکنا اور شرفِ انسانی 
کا زوال
ایک اہم طبی نکتہ یہ بھی ہے کہ خنزیر کا گوشت انسانی جسم میں شہوانی اور سیکسی جذبات کو غیر فطری طور پر بھڑکاتا ہے، لیکن ساتھ ہی اس شرف اور غیرت کو چھین لیتی ہے جو ان جذبات کو اعتدال اور پاکیزگی فراہم کرتی ہے۔ انسان کا اصل اعزاز اس کا وہ ضمیر ہے جو اسے پاکیزہ اور ناپاک کے درمیان فرق سکھاتا ہے۔ جب یہ ضمیر مر جاتا ہے تو انسان محض ایک گوشت کا لوتھڑا بن کر رہ جاتا ہے جس کی زندگی کا مقصد صرف شہوت رانی ہوتا ہے۔ 
اللہ تعالیٰ نے شراب اور خنزیر کو حرام کر کے دراصل انسان کو اس درندگی سے بچایا ہے تاکہ وہ اپنی نسلوں کو حیا اور وفا کا درس دے سکے۔
7 نتیجہ اور مہم کا پیغام
"غذا سے شفا" کے پلیٹ فارم سے ہمارا پیغام واضح ہے کہ تندرستی صرف بیماری سے نجات کا نام نہیں بلکہ ایک پاکیزہ روح اور غیرت مند کردار کا نام بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ہر حکم انسانی بھلائی پر مبنی ہے۔ خنزیر اور شراب سے پرہیز دراصل اپنی انسانیت، اپنی غیرت اور اپنی صحت کی حفاظت کا عہد ہے۔ 
ہمیں ایسی غذاؤں کی طرف لوٹنا ہوگا جو ہمارے جسم کو توانائی اور ہماری روح کو پاکیزگی عطا کریں۔ پاکیزہ غذائیں ہی ایک پاکیزہ اور غیرت مند معاشرے کی ضامن ہیں
اس لئیے آپ شراب اور خنزیر کے گوشت سے دور رہیں کیونکہ یہ انسانی وجود کی صحت اور اخلاقی اقدار دونوں کے لیے ہے زہر قاتل ہے 
x

بینگن قدرتی شفاء بخش ہے

نوٹ: یہ تحریر صرف معلوماتی اور تعلیمی مقاصد کے لیے ہے۔ درست غذا کے استعمال سے آپ ان شاء اللہ صحت و شفا حاصل کریں گے 

بینگن: اعصابی مسائل کا حل اور قدرت کا انمول تحفہ

کائنات کی ہر تخلیق میں انسان کے لیے کوئی نہ کوئی حکمت چھپی ہوئی ہے۔ عام طور پر ہمارے باورچی خانوں میں بینگن کو ایک عام سی سبزی سمجھا جاتا ہے، لیکن طبی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ محض ایک غذا نہیں بلکہ کئی پیچیدہ جسمانی مسائل کا حل بھی ہے۔ آج کی اس خصوصی تحریر میں ہم بینگن کا جائزہ جدید سائنسی تحقیق اور نظریہ مفرد اعضا (تحقیقِ صابر) کی روشنی میں لیں گے۔

بینگن کا طبی مزاج اور تحقیقِ صابر

ڈاکٹر انقلاب جناب دوست محمد صابر ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیقات کے مطابق، انسانی صحت کا دارومدار اعضا کے افعال کی درستی پر ہے۔ آپ کی تحقیق کے مطابق بینگن کا مزاج "سرد خشک" (عضلاتی اعصابی) ہے۔ یہ مزاج انسانی جسم میں مخصوص تبدیلیوں کا باعث بنتا ہے جو کئی مسائل میں اکسیر ثابت ہوتا ہے۔

1. اعصابی تحریک اور موٹاپے کا حل

تحقیقِ صابر کے مطابق، وہ افراد جو اعصابی تحریک (رطوبت کی زیادتی) کا شکار ہوتے ہیں، ان کے جسم میں ضرورت سے زیادہ تری اور سستی پیدا ہو جاتی ہے۔ بینگن اپنے سرد خشک مزاج کی بدولت جسم کی اضافی رطوبت کو جذب کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ اعصابی موٹاپے کو ختم کرنے کے لیے ایک بہترین قدرتی ذریعہ ہے۔ وہ لوگ جن کا جسم تھل تھلا ہو چکا ہو، یہ گوشت میں سختی پیدا کر کے وزن کم کرنے میں انتہائی معاون ثابت ہوتا ہے۔

2. لو بلڈ پریشر اور دل کی سست دھڑکن

ایسے مریض جن کا بلڈ پریشر اکثر کم رہتا ہے یا جن کے دل کی دھڑکن سست پڑ جاتی ہے، ان کے لیے بینگن ایک موثر غذا ہے۔ یہ دل کے ڈوبنے کی کیفیت کو ختم کرنے میں مدد دیتا ہے اور جسم میں عضلاتی تحریک پیدا کر کے خون کے دباؤ کو متوازن کرتا ہے۔ تحقیقِ صابر کے مطابق یہ خون کو گاڑھا کرتا ہے جو مخصوص طبی حالات میں جسم کو توانائی فراہم کرتا ہے۔

3. نزلہ زکام اور ریشہ سے نجات

اگر آپ دائمی نزلے یا بہتی ہوئی ناک سے پریشان ہیں، تو بینگن کی خشک طبیعت رطوبتوں کو خشک کرنے میں مددگار ہے۔ یہ چھینکوں اور ریشے سے نجات دلاتا ہے۔ تاہم، یہ قابض ہے اس لیے اسہال یا سنگرہنی کے مریضوں کے لیے بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔


جدید سائنسی تحقیق اور پوشیدہ فوائد

1. ناسونین (Nasunin): دماغ کا محافظ

بینگن کے گہرے جامنی چھلکے میں ایک طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ "ناسونین" پایا جاتا ہے جو دماغی خلیات کی جھلیوں (Cell Membranes) کو ٹوٹ پھوٹ سے بچاتا ہے اور یادداشت کو بہتر کرتا ہے۔

2. ذیابیطس (Diabetes) کا کنٹرول

بینگن میں موجود فائبر اور پولی فینولز خون میں چینی کے جذب ہونے کے عمل کو سست کر دیتے ہیں، جس سے شوگر لیول کو متوازن رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

3. دل کی صحت

اس میں موجود فلیوونائڈز (Flavonoids) شریانوں کی لچک برقرار رکھتے ہیں اور جسم سے زہریلے مادوں کے اخراج میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

پرہیز علاج سے بہتر ہے 

بینگن بواسیر کے مریض اور وہ لوگ جن کے دل کے وال بند ہیں استعمال نہ کریں  یا جو لوگ جوڑوں کے درد گھنٹیا کے مریض ہیں ان کو یہ نقصان دیگا ۔

جن لوگوں کے درد یا ورم حرکت کرنے بڑہ جائیں ان کو مفید ہے جن لوگوں کی ہڈیوں میں مکھ یا چکناہٹ کم ہو قدرتی روغن اندرونی طور پر کم ھوگیا ہے یا ان کے جوڑوں میں رگڑ سے آواز پیدا ہوتی ہے ان کے لیے نقصان دہ ہے جوڑوں کا درد دو قسم کا ہے  ایک۔میں۔مفید ہے ایک کو نقصان دہ ہے 

 بینگن کے کے پکوڑے ، بینگن کے پکوڑے اس کے فائدے کو بڑھاتے ہیں بیان سرخ مرچ ہلدی دھنیا خشک سبز مرچ کے ساتھ پکوڑے بنائیں بہترین ذائقہ ہے اور گرمی کے مریضوں کو مفید ہے جگر کے امراض میں فائدے مند ہے 

احتیاطی تدابیر اور طریقہ کار:

  • بینگن کو ہمیشہ سبز مرچ، ادرک، لہسن اور ہلدی کے ساتھ پکائیں تاکہ اس کا بادی پن ختم ہو سکے۔
  • پکانے کا انداز: زیادہ تیل میں تلنے سے گریز کریں۔ بھون کر یا کم روغن میں پکانا بہترین ہے۔
  • چھلکا: اینٹی آکسیڈنٹس کے حصول کے لیے اسے چھلکے سمیت پکانا زیادہ مفید ہے۔

"یاد رکھیں، شفا دوا میں نہیں بلکہ درست غذا میں چھپی ہے!"


تحریر: ڈاکٹر محمد شاہ غرشین
ماہرِ غذائیت و معالج طبِ یونانی
(ماہر کلر تھراپی






آلو مٹر گوبھی کے فائدے نقصانات (Benefits of Potatoes, Peas, and Cabbage)



 ہمارے ہاں باورچی خانے میں آلو، مٹر اور گوبھی کو محض "سبزیاں" سمجھا جاتا ہے، لیکن اگر آپ ان کے پیچھے چھپی

ہری سائنس اور حکیم صابر ملتانیؒ کے بتائے ہوئے اصولوں کو سمجھ لیں، تو آپ کی پلیٹ میں رکھی یہ غذا آپ کے لیے دوا بھی بن سکتی ہے اور زہر بھی۔

آئیں، آج اس عام سی سبزی کے خاص پہلوؤں پر بات کرتے ہیں، بالکل سادہ اور عام فہم زبان میں۔

آلو اور مٹر: سائنس کی نظر میں

اگر ہم جدید سائنس سے پوچھیں، تو وہ کہتی ہے کہ آلو اور مٹر توانائی کا پاور ہاؤس ہیں۔ 

 آلو میں موجود پوٹاشیم دل کی دھڑکن کو نارمل رکھتا ہے اور اس کا نشاستہ (Starch) جسم کو فوری طاقت دیتا ہے۔

مٹر میں پروٹین اور فائبر کی اتنی وافر مقدار ہوتی ہے کہ یہ گوشت کا نعم البدل سمجھے جاتے ہیں۔ یہ خون میں شوگر کو ایک دم بڑھنے نہیں دیتے۔

سائنسی لحاظ سے یہ باتیں سو فیصد درست ہیں، لیکن یہاں ایک بڑا سوال پیدا ہوتا ہے: کیا یہ ہر انسان کے لیے یکساں مفید ہیں؟

طبِ صابر کا نکتہ: کیا آپ کا مزاج اسے قبول کرتا ہے؟

حکیم انقلاب صابر ملتانیؒ فرماتے ہیں کہ ہر غذا کا ایک مزاج ہوتا ہے۔ آلو، مٹر اور گوبھی، یہ تینوں خشک سرد (عضلاتی اعصابی) مزاج کی حامل ہیں۔ یعنی یہ جسم میں خشکی پیدا کرتی ہیں اور رطوبات (تری) کو جذب کرتی ہیں۔

یہ آپ کے لیے "شفا" کب ہیں؟

اگر آپ ایسے شخص ہیں جسے:

 ہر وقت سستی اور نیند گھیرے رکھتی ہے 

  بلغم کی زیادتی ہے یا نزلہ زکام پیچھا نہیں چھوڑتا۔

  پیشاب بار بار اور سفید رنگ کا آتا ہے۔

جسم میں حد سے زیادہ تری اور رطوبات جمع ہو گئی ہیں۔

تو یقین مانیں، آلو مٹر اور گوبھی آپ کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں! یہ آپ کے جسم کی اضافی تری کو سکھا کر آپ کو چاک و چوبند کر دیں گی۔

یہ آپ کے لیے "نقصان دہ" کب ہیں؟

لیکن اگر آپ کا مزاج پہلے ہی خشک ہے، آپ کو اکثر قبض رہتی ہے، یا پیٹ میں گیس (تبخیر) بنتی ہے، تو یہی آلو مٹر آپ کی دشمن بن سکتی ہیں۔

  یہ جسم میں سودا (خشکی) بڑھا کر جوڑوں کے درد، تیزابیت اور معدے کے بوجھ کا باعث بنتی ہیں۔

  اسی لیے پرانے لوگ کہتے تھے کہ "گوبھی بادی ہوتی ہے"۔ یہ "بادی" دراصل وہی سوداوی خشکی ہے جو پیٹ میں مروڑ اور گیس پیدا کرتی ہے۔

ایک خاص مشورہ 

کوئی بھی غذا اپنے آپ میں بری نہیں ہوتی، بس اسے استعمال کرنے کا طریقہ اور موقع صحیح ہونا چاہیے۔ اگر آپ آلو مٹر شوق سے کھانا چاہتے ہیں لیکن ڈرتے ہیں کہ یہ گیس کریں گے، تو اس میں ادرک، لہسن اور دیسی گھی کا تڑکا ضرور لگائیں۔ یہ چیزیں ان کی "بادی" یعنی خشکی کو ختم کر کے انہیں ہضم ہونے میں مدد دیتی ہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ

 اپنی نبض پہچانیں! اگر جسم میں تری ہے تو آلو مٹر کا ساتھ نبھائیں، اور اگر پہلے ہی خشکی کا راج ہے تو ذرا ہاتھ ہولا رکھیں؟



آپ مزید کچھ جاننا چاہتے ہیں تو واٹس اپ کریں پلیز

+923138865733


ہم نے پہلے لکھا ہے کہ انسانی وجود کی چھ حصوں میں تقسیم

وہاں سے سمجھنے کی کوشش کریں کہ 

ایک نمبر چھ نمبر کے ایریا کے امراض والے لوگوں کے لئیے گوبھی آلو مٹر میں شفاء ہے