بچے بستر پر پیشاب کیوں کرتے ہیں ؟
بچوں میں بستر پر پیشاب کی شکایت
اسباب، نفسیاتی پہلو اور موثر غذائی علاج
بچوں کا رات کو سوتے ہوئے بستر پر پیشاب کر دینا (Bedwetting) والدین کے لیے ایک پریشان کن مسئلہ ہوتا ہے۔ طبی اصطلاح میں اسے 'اینوریسس' (Enuresis) کہا جاتا ہے۔ اکثر اسے محض ایک عادت سمجھا جاتا ہے، جبکہ حقیقت میں اس کے پیچھے مخصوص جسمانی رطوبات کا غلبہ اور اعصابی نظام کی کیفیات کارفرما ہوتی ہیں۔
ذیل میں ہم ان اسباب اور ان کے حل کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔
بستر پر پیشاب کرنے کے بنیادی اسباب
بچوں میں اس شکایت کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں سے اہم درج ذیل ہیں:
مثانہ کے عضلات کی کمزوری: جب مثانے کے پٹھے اتنے مضبوط نہیں ہوتے کہ وہ پیشاب کو روک سکیں، تو نیند کی حالت میں اخراج ہو جاتا ہے۔
غددِ جاذبہ کی کمزوری: جسم میں رطوبات کو جذب کرنے والے غدود جب سست پڑ جائیں تو پیشاب کی پیداوار بڑھ جاتی ہے۔
شدید سردی یا ٹھنڈک: موسمی اثرات یا ٹھنڈی غذاؤں کے استعمال سے گردوں کی تحریک بڑھ جاتی ہے۔
پیشاب کی کثرت: جسم میں رطوبات کا زیادہ بننا اور اخراج کی صلاحیت کا کم ہونا۔
مزاج اور نفسیات کا کردار
طبِ یونانی اور جدید مشاہدات کے مطابق، بچہ 7 سال کی عمر تک اعصابی مزاج رکھتا ہے۔ اس عمر میں جسم میں 'سرد تر' کیفیت اور رطوبات کا غلبہ ہوتا ہے۔
گہری نیند کا اثر: اعصابی مزاج میں نیند بہت گہری آتی ہے۔ جب مثانے پر پیشاب کا دباؤ بڑھتا ہے، تو بچہ گہری نیند کی وجہ سے بیدار نہیں ہو پاتا۔
طبیعتِ مدبرہ اور لاشعور: اس مرحلے پر انسانی جسم کا دفاعی نظام (طبیعتِ مدبرہ) خواب میں ایسے مناظر تخلیق کرتا ہے (مثلاً بچہ خود کو واش روم میں دیکھتا ہے) جس سے وہ لاشعوری طور پر بستر پر ہی پیشاب کر دیتا ہے۔
موثر غذائی حل
اس مسئلے کا پائیدار حل اسباب کو ختم کرنے میں پوشیدہ ہے۔ درج ذیل طریقہ کار اپنا کر محض 15 دن میں مثبت نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں:
1. رات کی خوراک میں تبدیلی
بچے کو رات کے وقت ٹھنڈی تاثیر رکھنے والی چیزیں (جیسے دودھ، چاول یا ٹھنڈے مشروبات) دینے سے گریز کریں۔
ابلا ہوا انڈہ: رات کو بچے کو ایک ابلا ہوا انڈہ نمک لگا کر دیں۔ یہ جسم میں گرمائش پیدا کرتا ہے، سردی کو کم کرتا ہے اور غددِ جاذبہ کو مضبوط بنا کر پیشاب کی کثرت کو روکتا ہے۔
2. مقوی عضلات قہوہ
ادرک اور دارچینی کا قہوہ عضلات کو طاقت دینے کے لیے بہترین ہے۔
فائدہ: یہ قہوہ 'حابس' (روکنے والا) صفت رکھتا ہے، جو پیشاب کی زائد پیدائش کو کنٹرول کرتا ہے اور مثانے کے پٹھوں کو مضبوط بناتا ہے۔
3. معدنیات کا استعمال (طبی مشورہ)
بچے کی عمومی صحت اور اعصابی مضبوطی کے لیے کیلشیم اور فولاد (Iron) کے مرکبات کا استعمال نہایت مفید ہے۔ اس سے نہ صرف بستر پر پیشاب کی شکایت دور ہوتی ہے بلکہ بچے کی رنگت اور جسمانی توانائی میں بھی نمایاں بہتری آتی ہے۔
بچوں کے اس مسئلے کو ڈانٹ ڈپٹ کے بجائے محبت اور درست غذا سے حل کریں۔ اگر آپ 15 دن تک اوپر بتائے گئے غذائی چارٹ پر عمل کریں، تو ان شاء اللہ بچہ اس شکایت سے مکمل نجات پا لے گا۔
تحریر: ماہرِ غذائیت (غذا سے شفا)
ڈاکٹر محمد شاہ غرشین
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
آپ نے میرا پیج وزٹ کیا آپ کا شکریہ آپ اور آپ کی رائے میرے لیئے محترم ہےمیں پہلی فرست میں آپ کو رپلائی کروں گا اپنا خیال رکھنا