نوٹ: یہ تحریر صرف معلوماتی اور تعلیمی مقاصد کے لیے ہے۔ درست غذا کے استعمال سے آپ ان شاء اللہ صحت و شفا حاصل کریں گے
بینگن: اعصابی مسائل کا حل اور قدرت کا انمول تحفہ
کائنات کی ہر تخلیق میں انسان کے لیے کوئی نہ کوئی حکمت چھپی ہوئی ہے۔ عام طور پر ہمارے باورچی خانوں میں بینگن کو ایک عام سی سبزی سمجھا جاتا ہے، لیکن طبی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ محض ایک غذا نہیں بلکہ کئی پیچیدہ جسمانی مسائل کا حل بھی ہے۔ آج کی اس خصوصی تحریر میں ہم بینگن کا جائزہ جدید سائنسی تحقیق اور نظریہ مفرد اعضا (تحقیقِ صابر) کی روشنی میں لیں گے۔
بینگن کا طبی مزاج اور تحقیقِ صابر
ڈاکٹر انقلاب جناب دوست محمد صابر ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیقات کے مطابق، انسانی صحت کا دارومدار اعضا کے افعال کی درستی پر ہے۔ آپ کی تحقیق کے مطابق بینگن کا مزاج "سرد خشک" (عضلاتی اعصابی) ہے۔ یہ مزاج انسانی جسم میں مخصوص تبدیلیوں کا باعث بنتا ہے جو کئی مسائل میں اکسیر ثابت ہوتا ہے۔
1. اعصابی تحریک اور موٹاپے کا حل
تحقیقِ صابر کے مطابق، وہ افراد جو اعصابی تحریک (رطوبت کی زیادتی) کا شکار ہوتے ہیں، ان کے جسم میں ضرورت سے زیادہ تری اور سستی پیدا ہو جاتی ہے۔ بینگن اپنے سرد خشک مزاج کی بدولت جسم کی اضافی رطوبت کو جذب کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ اعصابی موٹاپے کو ختم کرنے کے لیے ایک بہترین قدرتی ذریعہ ہے۔ وہ لوگ جن کا جسم تھل تھلا ہو چکا ہو، یہ گوشت میں سختی پیدا کر کے وزن کم کرنے میں انتہائی معاون ثابت ہوتا ہے۔
2. لو بلڈ پریشر اور دل کی سست دھڑکن
ایسے مریض جن کا بلڈ پریشر اکثر کم رہتا ہے یا جن کے دل کی دھڑکن سست پڑ جاتی ہے، ان کے لیے بینگن ایک موثر غذا ہے۔ یہ دل کے ڈوبنے کی کیفیت کو ختم کرنے میں مدد دیتا ہے اور جسم میں عضلاتی تحریک پیدا کر کے خون کے دباؤ کو متوازن کرتا ہے۔ تحقیقِ صابر کے مطابق یہ خون کو گاڑھا کرتا ہے جو مخصوص طبی حالات میں جسم کو توانائی فراہم کرتا ہے۔
3. نزلہ زکام اور ریشہ سے نجات
اگر آپ دائمی نزلے یا بہتی ہوئی ناک سے پریشان ہیں، تو بینگن کی خشک طبیعت رطوبتوں کو خشک کرنے میں مددگار ہے۔ یہ چھینکوں اور ریشے سے نجات دلاتا ہے۔ تاہم، یہ قابض ہے اس لیے اسہال یا سنگرہنی کے مریضوں کے لیے بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔
جدید سائنسی تحقیق اور پوشیدہ فوائد
1. ناسونین (Nasunin): دماغ کا محافظ
بینگن کے گہرے جامنی چھلکے میں ایک طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ "ناسونین" پایا جاتا ہے جو دماغی خلیات کی جھلیوں (Cell Membranes) کو ٹوٹ پھوٹ سے بچاتا ہے اور یادداشت کو بہتر کرتا ہے۔
2. ذیابیطس (Diabetes) کا کنٹرول
بینگن میں موجود فائبر اور پولی فینولز خون میں چینی کے جذب ہونے کے عمل کو سست کر دیتے ہیں، جس سے شوگر لیول کو متوازن رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
3. دل کی صحت
اس میں موجود فلیوونائڈز (Flavonoids) شریانوں کی لچک برقرار رکھتے ہیں اور جسم سے زہریلے مادوں کے اخراج میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
پرہیز علاج سے بہتر ہے
بینگن بواسیر کے مریض اور وہ لوگ جن کے دل کے وال بند ہیں استعمال نہ کریں یا جو لوگ جوڑوں کے درد گھنٹیا کے مریض ہیں ان کو یہ نقصان دیگا ۔
جن لوگوں کے درد یا ورم حرکت کرنے بڑہ جائیں ان کو مفید ہے جن لوگوں کی ہڈیوں میں مکھ یا چکناہٹ کم ہو قدرتی روغن اندرونی طور پر کم ھوگیا ہے یا ان کے جوڑوں میں رگڑ سے آواز پیدا ہوتی ہے ان کے لیے نقصان دہ ہے جوڑوں کا درد دو قسم کا ہے ایک۔میں۔مفید ہے ایک کو نقصان دہ ہے
بینگن کے کے پکوڑے ، بینگن کے پکوڑے اس کے فائدے کو بڑھاتے ہیں بیان سرخ مرچ ہلدی دھنیا خشک سبز مرچ کے ساتھ پکوڑے بنائیں بہترین ذائقہ ہے اور گرمی کے مریضوں کو مفید ہے جگر کے امراض میں فائدے مند ہے
احتیاطی تدابیر اور طریقہ کار:
- بینگن کو ہمیشہ سبز مرچ، ادرک، لہسن اور ہلدی کے ساتھ پکائیں تاکہ اس کا بادی پن ختم ہو سکے۔
- پکانے کا انداز: زیادہ تیل میں تلنے سے گریز کریں۔ بھون کر یا کم روغن میں پکانا بہترین ہے۔
- چھلکا: اینٹی آکسیڈنٹس کے حصول کے لیے اسے چھلکے سمیت پکانا زیادہ مفید ہے۔
"یاد رکھیں، شفا دوا میں نہیں بلکہ درست غذا میں چھپی ہے!"
تحریر: ڈاکٹر محمد شاہ غرشین
ماہرِ غذائیت و معالج طبِ یونانی
(ماہر کلر تھراپی


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
آپ نے میرا پیج وزٹ کیا آپ کا شکریہ آپ اور آپ کی رائے میرے لیئے محترم ہےمیں پہلی فرست میں آپ کو رپلائی کروں گا اپنا خیال رکھنا