سیرتِ طیبہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصول زندگی میں امن سلامتی کے ضامن ہیں

آج کا انسان ہر آسائش کے باوجود ایک عجیب سی بے چینی، نامعلوم خوف اور گھٹن کا شکار ہے۔ ہم نے مادیت کی دوڑ
میں جسم کو تو محلوں میں سجا لیا
مگر روح کو اندھیروں میں چھوڑ دیا۔ سچ تو یہ ہے کہ آج کا سب سے بڑا مرض کینسر یا شوگر نہیں، بلکہ وہ "ذہنی کرب" ہے جسے ہم ڈپریشن اور اسٹریس کہتے ہیں۔
آئیے! اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں کہ ہم سے کہاں غلطی ہوئی اور اس اندھیرے سے نکلنے کا راستہ کیا ہے۔
چڑیا جیسا دل: جنت کی ضمانت اور ذہنی صحت
امام غزالیؒ نے نبی کریم ﷺ کی ایک نہایت پیاری حدیث نقل فرمائی ہے کہ:
"جنت میں وہ لوگ داخل ہوں گے جن کے دل چڑیا کے دل کی طرح (نرم اور نازک) ہوں گے۔"
ذرا غور کریں! ایک ننھی سی چڑیا کا دل کتنا صاف ہوتا ہے۔
نہ اس میں کل کی فکر ہے، نہ کسی سے حسد، نہ کسی کے خلاف بغض اور نہ ہی کوئی لمبی چوڑی لالچ۔ وہ اپنے رب پر توکل کر کے اڑتی ہے اور شام کو مطمئن لوٹتی ہے۔
آج ہمارے ذہنی تناؤ کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ ہمارا دل "سخت" ہو چکا ہے۔ ہم حسد کی آگ میں جل رہے ہیں، غیبت کی عادت نے ہماری روح کو میلا کر دیا ہے اور ہم نے معاف کرنا چھوڑ دیا ہے۔ جس دن ہمارا دل چڑیا جیسا "نرم" ہو گیا، اسی دن ڈپریشن ہمارے قریب آنے سے بھی ڈرے گا۔
سیرتِ طیبہ ایک معطر زندگی کا آئینہ
ہم نمازیں تو پڑھتے ہیں، روزے بھی رکھتے ہیں، مگر کیا ہمارے اخلاق وہی ہیں جو ہمارے نبی محمد رسول اللہ ﷺ کے تھے؟
آپ ﷺ نے کبھی کسی کی غیبت نہیں کی، کبھی کسی پر بہتان نہیں لگایا۔
آپ ﷺ نے کبھی وعدہ خلافی نہیں کی اور نہ ہی کسی کا حق مارا۔
آپ ﷺ کی زبان مبارک سے کبھی تلخ لفظ نہیں نکلا اور نہ ہی آپ ﷺ نے کبھی اپنی تعریف خود کی۔
آپ ﷺ سادگی کی انتہا پر تھے، کبھی ضرورت سے زیادہ نہیں کھایا اور ہمیشہ صاف ستھرے رہے۔
آج کا مسلمان مسجد میں تو سجدہ کرتا ہے، مگر باہر نکل کر جھوٹ، ملاوٹ، سودی کاروبار اور لوگوں کا دل دکھانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا۔ یاد رکھیں!
جب تک ہم نبی ﷺ کی ان سنتوں کو نہیں اپنائیں گے، ہماری عبادات ہمیں وہ سکون نہیں دے سکیں گی جس کی ہمیں تلاش ہے۔
آیاتِ کتب: غم کے اندھیروں میں امید کا نور
قرآن مجید کی دو عظیم آیات ایسی ہیں جنہیں "آیاتِ قطب" کہا جاتا ہے (سورہ آل عمران آیت 154 اور سورہ فتح آیت 29)۔ ان آیات کی خاص بات یہ ہے کہ ان میں عربی کے تمام حروفِ تہجی موجود ہیں، جو ایک مکمل کائنات کی تاثیر رکھتے ہیں۔ قرآن کریم مکمل حروف ان میں موجود ہیں عقل مند کو اشارہ کافی ہے
یہ آیات قطب الاقتاب قلندر کا وظیفہ ہیں
جب انسان شدید خوف اور ڈپریشن میں گھرا ہو، تو آیت 154 (سورہ آل عمران) اسے یاد دلاتی ہے کہ کیسے اللہ نے احد کے تھکے ہارے مجاہدین پر "امن کی اونگھ" نازل کر کے ان کے سارے غم دھو دیے تھے۔
یہ آیت بتاتی ہے کہ کائنات کا ہر فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے، پھر پریشانی کیسی؟
اسی طرح آیت 29 (سورہ فتح) صحابہ کی اس مضبوطی کا ذکر کرتی ہے جیسے ایک توانا کھیتی اپنے تنے پر کھڑی ہو جائے۔ یہ آیت انسان کے اندر وہ ہمت پیدا کرتی ہے کہ وہ دنیا کے سامنے جھکنے کے بجائے صرف اپنے رب کے سامنے سجدہ ریز ہو۔
شفا اور برکت کا خاص معمول
اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی جان و مال محفوظ رہے، رزق میں برکت ہو اور ذہنی امراض سے نجات ملے، تو اس نبوی نسخے کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں:
روزانہ صبح و شام: سات مرتبہ درود شریف کے ساتھ ان دونوں آیات (آل عمران 154 اور الفتح 29) کی تلاوت کریں۔
برکت کی دعا: سات مرتبہ یہ دعا پڑھیں
اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ
اخلاقی عہد: عہد کریں کہ آج سے نہ کسی کی غیبت کریں گے، نہ حسد کریں گے اور نہ ہی کسی کا دل دکھائیں گے۔
خلاصہِ کلام
شفا صرف ادویات میں نہیں، بلکہ اپنے عمل کی اصلاح میں ہے۔
اگر ہم نبی کریم ﷺ کی ان سنتوں پر سختی سے عمل کریں اور ان قرآنی آیات کو اپنا وظیفہ بنا لیں، تو ہمارا معاشرہ امن، محبت اور برکت کا گہوارہ بن جائے گا۔ آئیے! آج سے ہی اپنے دل کو چڑیا جیسا نرم بنائیں اور اپنے رب کی رحمتوں کے سائے میں پناہ لیں اب جس شخص کو زندگی میں آخرت میں کامیابی چاہیے امن سلامتی سکون چاہیے اور وہ خوف سے نجات چاہتا ہے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے در پر حاضری اور قرآن کریم کے دامن میں آنا پڑیگا
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
آپ نے میرا پیج وزٹ کیا آپ کا شکریہ آپ اور آپ کی رائے میرے لیئے محترم ہےمیں پہلی فرست میں آپ کو رپلائی کروں گا اپنا خیال رکھنا