مین نے خود سے پوچھا میں کون ہوں ؟
1, انسان کی زندگی ہو یا حیوانات وغیرہ ٹائم اور اسپیس کے دوش پر لہروں کی تانوں بانوں سے بنا یہ انسان سمجھتا ہے کہ مٹی اس کی اصل ہے ؟۔
اگر چہ یہ بات حقیقت کے بہت قریب ہے دنیا سائنس اس کو مانتی ہے
دنیا کے دیگر علوم بھی مگر یہ آدھا سچ ہے ؟
اسلام اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ انسان ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر کا مجموعہ ہے ؟
اس کا وجود ہو یا سوفٹویئر دو رخ پر قائم ہے اور اس نظام قائم ہے پاور انرجی پر جیساکہ بجلی یا بیٹری جو دل میں پیدا ہوتی ہے مگر اس کی زندگی پھر بھی ان سے مکمل نہیں ہے ؟
اس کو تکمیل کی طرف لے جاتا ہے
خیالات کا سگنل سسٹم نے مگر کیسے ؟
اس کا سوفٹ ویئر بیٹری بجلی کی لہروں پر قائم ھے جو ہارڈ ویئر وجود کو قوت دیتی ہیں اور یوں یہ زندہ ہے۔
مگر کہا جاتا ہے کہ اس طرح تو حیوانات جمادات بھی زندہ ہیں پھر فرق کیا ہے ؟
فرق توجہ کو متقاضی ہے
فرق ہے روح اور انٹرنیٹ 10 جی ڈیٹا سسٹم جو شاید دس جی بی سے بھی زیادہ سو جی بی کی اسپیڈ سے کام کرتا ہے اور اس نظام کے ذریعہ اللہ نے اسے علم کی فضیلت سے نوازا ہے یہیں سے اس میں تخلیقی صلاحیتوں کو پرو دیا گیا ہے
جو اس کی افضلیت کا بنیادی سبب ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ،
ہم نے ادم۔کو علم الاسماء سکھایا ہے
(آدم حوا سے مراد تمام انسانوں کے کے ماں باپ)
(قرآن)
وہ علم الاسماء ہے تخلیق کی صلاحیت ،تمیز کی صلاحیت ، سچ جھوٹ کو الگ کرنے کی صلاحیت غلط اور صحیح کو الگ کرنے اور پھر فیصلہ کرنے کا اختیار کہ وہ برائی کو اختیار کریگا یا اچھائی کو ۔
دیکھو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ،
میں نے موت اور زندگی اس لئیے پیدا کی کہ میں دیکھوں آزماؤں کہ تم میں کون نیکی کرتا ہے یعنی اچھائی سچائی کا انتخاب کرتا ہے ؟۔
( سورۃ ملک)
شعور اور عقل کی بات کی جائے تو حیوانات کہیں انسان سے افضل نظر آتے ہیں
عقل ان میں بھی ہے
شہد کی مکھی ہو یا چیونٹی کا نظام حیات ہو یا کتے کی وفاداری جب غور کیا جائے تو عقل دنگ رہ جاتی ہے
اس دلیل کے بعد آپ یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ حیوانات میں عقل نہیں ہے
انسان کو اور حیوانات کو خیال کی انسپائریش یکساں ہوتی ہے درد تکلیف خوشی غم سردی گرمی کا احساس سوچ یکساں ہے
افزائش نسل کی بات ہو یا روزی روٹی کی بھوک سب کو یکساں لگتی ہے بیمار بھی ہوتے ہیں شفاء یاب بھی
ایک چیز باقیوں کے پاس نہیں ہے وہ ہے علم اختیار اور تخلیقی صلاحیت سوال کرنے کی قوت ؟ جواب دینے کا اختیار اور علم
کچھ مزید جاننے کی جستجو مگر یہ وابستہ ہے انٹر نیٹ سے جو سو جی بی سے زیادہ مضبوط پاور کے ساتھ انسانی نظام کو فیڈنگ انسپائر یش کرتا ہے۔۔
اسلام کہتا ہے کہ انسان کے اندر چھ نظام کام کرتے ہیں یا یوں کہیں کہ چھ مختلف قوتیں کام کرتی ہیں
دو دل کے ماتحت دو ؟
دو لیور جگر کے ماتحت ؟
دو دماغ اور اعصاب کے ماتحت
ہر ایک نظام ایک دوسرے میں اس طرح گوندھا ہوا ہے جیسے آٹے میں نمک یا پانی موجود ہو تا ہے
یہی وہ نیابت خدا وندی ہے جس کو انسان نے اٹھایا ہے
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں
ہم نے پہاڑوں پر اپنی امانت پیش کی تو انہوں نے اسے اٹھانے سے معزرت کر لی
مگر انسان نے اس امانت کو اٹھا لیا
اللہ فرماتے ہیں یہ ظالم اور جاھل ہے ؟
اس سے ثابت ہوا کہ پہاڑ بھی عقل شعور رکھتے ہیں اگر ایسا نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ ان کو اتنی بڑی نیابت کیونکر سونپ رہا تھا ؟
پھر اتنی بڑی نعمت نیابت لینے کے بعد یہ ظالم اور جاھل کیوں کر ہوا یہ سوال جواب کا متقاضی ہے ؟
اللہ کی نیابت کیا ہے ؟
مطلب اللہ نے انسان کو کائنات میں اپنا نائب بناکر بھیجا اور اختیار دیا قوت فیصلہ اور عدل انصاف صحیح اور غلط کا علم دیا
اور تخلیق کا علم بھی
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
واللہ احسن الخالقین (قرآن)
یعنی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں سب سے بہترین تخلیق کرنے والا ہوں
اب آج کی جدید مثال اے آئی ہے
جو انسان کی تخلیق ہے
مگر انسان خود اللہ کی تخلیق ہے
مگر افضل تخلیق اللہ کی ہے جو انسا ہے ،
مگر وہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ یہ ظالم اور جاھل کیونکر ہے ؟

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
آپ نے میرا پیج وزٹ کیا آپ کا شکریہ آپ اور آپ کی رائے میرے لیئے محترم ہےمیں پہلی فرست میں آپ کو رپلائی کروں گا اپنا خیال رکھنا