غذاء کی افادیت بدن انسانی کے لئیے
السلام علیکم قارئین
اب تک ہم علاج بالغذا کے عنوان پہ بہت ساری معلومات اپ کے ساتھ شیئر کر چکے ہیں
انسانی زندگی میں غذا کی ضرورت اہمیت اور افادیت کا اندازہ ہر شخص کو ہے ہم طبی نکتہ نگاہ سے یا جدید زبان میں سائنسی نکتہ نگاہ سے اپ کو سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ زندگی میں غذا کا کیا کردار ہے غذا کی زیادہ استعمال اسراف سے کیا امراض پیدا ہو سکتے ہیں اور غذا کو نارمل اور ضروری طور پہ استعمال کرنے سے کیسے شفا حاصل ہو سکتی ہے
مثلا اگر زندگی کے اسباب لازمی کی بات کی جائے تو ہر زندگی چاہے وہ انسان کی ہے یا حیوان کی اس میں جو لازمی اسباب زندگی ہیں وہ چھ ہیں
جس میں
(1) ہوا اور روشنی ہے
(2) اس میں کھانا پینا ہے
(3)جس میں حرکت اور سکون ہے
(4)جس میں حرکت اور سکون نفسیاتی ہے
(5) جس میں نیند اور بیداری ہے
(6)جس میں استفراغ اور احتباس ہے
یہ ایسے قوانین اور صورتیں ہیں جن میں زندگی کا تعلق کائنات سے بھی پیدا ہو جاتا ہے
انہی کو اسباب زندگی کہا جاتا ہے طبی اصطلاح میں ان کو اسباب ستہ ضروریہ کہتے ہیں
ان میں جب کمی بیشی واقع ہوتی ہے اس کی وجہ سے بدن انسانی میں جو حالت پیدا ہوتی ہے اس کو مرض کا نام دیا جاتا ہے جن کی تفصیلات مختلف امراض کے عنوان کے تحت طب کی کتب میں موجود ہے
اب یہ چھ اسباب ضروریہ جو میں نے بیان کیے ہیں دراصل تقسیم ہو کے تین صورتیں اختیار کر لیتے ہیں
ائیے اس کو سمجھتے ہیں
(1) نمبر ایک جسم کو غذائیت مہیا کرنا
جیسے ہوا اور روشنی
ماکولات اور مشروبات
یعنی کھانے اور پینے کی اشیاء ہیں
(2)جسم میں غذائیت کو ہضم کر کے جزو
بدن بناتے ہیں یا جز بدن بنانے میں جو چیزیں معاون اور مددگار ہیں اس میں نیند اور بیداری ہے
حرکت و سکون جسمانی ہے
اور حرکت و سکون نفسانی ہے
(3)جسم کے اندر غذائیت ایک مقررہ وقت تک قائم رہے تاکہ وہ جزو بدن بن جائے جب ان کی ضرورت نہ ہو تو اس کو خارج کر دیا جائے ان کو احتباس استفراغ کہتے ہیں
اب بات غذائیت زندگی کی کی جائے تو غذائیت میں ہوا اور روشنی کے ساتھ ہر قسم کی وہ اشیاء شامل ہیں جو ہم کھاتے ہیں اور پیتے ہیں استعمال کرتے ہیں جن میں نباتات ہیں زہریات ادویات ہیں سبزیاں ہیں گوشت ہے دودھ ہے پانی ہے یا مختلف مرکب مشروبات شامل ہیں
ان کے متعلق یہ امور ذہن نشین کر لیں کہ وہ سب جسم میں صرف غذائیت مہیا نہیں کرتی بلکہ جسم بھی بناتے ہیں یعنی آپ اگر دیکھیں کہ
انسان بچپن سے لڑکپن لڑکپن سے جوانی جوانی سے بڑھاپا یہ تمام مراحل انہی کی مدد سے طے پاتے ہیں یعنی ایک طرف جسم کو غذائیت فراہم کی جاتی ہے دوسری طرف جسم کو بنایا جاتا ہے نشوونما ہوتی
سب سے بڑی بات یہ ہے کہ حرارت غریزی اور رطوبت غریزی کی مدد کرتی ہے مطلب
غذائیت حرارت غریزی اور رطوبت غریزی کی مدد کرتی ہے جو انسان کے اندر ایک نظام ہے ان حقائق سے یہ ثابت ہوا کہ غذائیت کی ضرورت کی چند اقسام ہیں جو لازم اور ملزوم
(1)
غذائیت سے اخلاط خصوصا خون پیدا ہوتا ہے
(2)
غذائیت سے کیفیات بنتی ہیں
(3)
غذائیت سے جسم کی تعمیر ہوتی ہے
(4)
جو کچھ جسم انسانی میں کسی حیثیت سے خرچ ہوتا ہے وہ پھر مکمل ہوتا ہے
(5)
غذائیت سے حرارت غریزی کو مدد ملتی ہے
(6)
غذائیت سے رطوبت غریزی قائم رہتی ہے
غذا کی ضرورت کی ایک دلیل یہ بھی ہے میں ایک مثال دیتا ہوں اپ کو
کہ جس طرح چراغ میں تیل ہوتا ہے اور بتی ہوتی ہے چراغ کی لو روشنی کو قائم رکھنے کے لیے تیل اور بتی کا وجود لازمی ہے
تیل چراغ کی بتی میں خرچ ہوتا ہے جس سے بتی چراغ جلتا ہے
اس طرح انسان اور حیوان کے بدن کی حرارت اور رطوبت بھی خرچ ہوتی ہے بالکل چراغ کے تیل اور بتی کی طرح جب وہ دونوں خرچ ہو جائیں تو وہ بجھ جاتا ہے
اس طرح حرارت اور رطوبت انسان فنا ہو جانے سے
انسانی زندگی کا چراغ کو گل کر دیتا ہے
اس کا مطلب یہ ہے کہ جب رطوبت یا حرارت انسانی وجود سے ختم ہو جائے تو انسان مر جاتا ہے
پس حرارت اور رطوبت انسانی جو انتہائی ضروری اور لا ابدی اشیاء ہیں
ان کا بدل اور معاوضہ ہونا لازمی امر ہے
تاکہ حرارت غریزی اور رطوبت غریزی فورا جل کر فنا نہ ہو جائیں
اس لیے غذائیت ایک انتہائی ضروری اور لا ابدی شے ہے
اسکی طلب اور تقاضہ ایک اضطراری اور غیر شعوری حالت ہے
میں نے عرض کیا کہ انسان کے جسم کی حرارت غریزی اور رطوبت غریزی کی مثال چراغ کی بتی اور تیل کی سی ہے جو چراغ کے جلنے کو قائم رکھتے ہیں
کبھی تیل کبھی ختم ہونے کبھی بتی جل جانے سے چراغ بجھ جاتا ہے
اور یہی صورت انسانی جسم میں پائی جاتی ہے حرارت غریزی رطوبت غریزی ختم ہو کر انسانی زندگی کو فنا کرتی ہے
اس لیے اگر انسان حرارت غریزی کی حفاظت کرتا رہے
تو نہ صرف طبعی عمر کو پہنچتا ہے بلکہ امراض سے بھی محفوظ رہتا ہے اس کے قوی اور طاقتیں قائم رہتی ہیں
اس حقیقت سے اکثر انسان ناواقف ہیں کہ حرارت کیسے پیدا ہوتی ہے اور رطوبت جو ہے وہ کیسے قائم رہتی ہے
عام طور پر یہی ذہن نشین کر لیا گیا ہے
کہ جو غذا وقت بے وقت کھائی جاتی ہے وہ ضرور خون اور طاقت بن جاتی ہے
زیادہ سے زیادہ گرم یا مرغن اغزیہ یا پروٹین کھا لینا کافی ہیں
لیکن ایسی باتیں حقیقت سے بہت دور ہیں
اگر اتنا سمجھ لینا کافی ہوتا تو
ہر امیر ادمی انتہائی صحت مند ہوتا اور ان میں کوئی مرض نظر نہ اتا
بلکہ اگر غور سے دیکھا جائے تو امیروں میں مریض زیادہ ہیں
اور بھوکے فقیروں اور غریبوں میں تو مریض خصوصا پیچیدہ امراض کے مریض تو مشکل ہی سے نظر اتے ہیں
اس سے ثابت ہوا کہ صرف غذا کا کھا لینا ہی صحت اور طاقت کے لیے کافی نہیں
بلکہ اس کے لیے کچھ اصول بھی ہیں تاکہ وہ غذا جسم میں جا کر مناسب طور پر حرارت اور رطوبت کی شکل اختیار کر سکے
اور وہاں خرچ ہو ایسا نہ ہو کہ بجائے مفید اور معاون اثرات کے مضر اور غیر معاون ثابت ہو کر مرض یا فنا کا باعث بن جائے
یہی صحیح غذا کے استعمال اور غذایت سے مفید اثرات کے حاصل کرنے کو لازمی ہے راز ہے
جیسا کہ میں نے اپ کو ایک چراغ کی مثال دی کہ چراغ
میں اگر تیل ختم ہو جائے تب بھی وہ چراغ بجھ جائے گا
اور چراغ کی اگر بتی ختم ہو جائے تب بھی چراغ بجھ جائے گا
اگرچہ تیل موجود ہے
اسی طرح بعض اوقات اگر تیل ضرورت سے زیادہ ہو جائے تب بھی چراغ بجھ جائے گا
تو یہ تیل ضرورت سے زیادہ نہ ہو جائے اسی لیے غذا کو انسانی وجود میں جزو بدن بنانے کے لیے کچھ اصول مرتب کیے گئے ہیں
اگر اپ ان اصولوں اور قواعد سے واقف نہیں ہیں تب بھی اپ کی زندگی میں بہت ساری مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں
طاقت غذا میں ہے جاننا یہ چاہیے کہ انسانی جسم میں طاقت خصوصا قوت مردانہ کے کمال کا پیدا کرنا صرف مقوی اور اکثیر ادویات پر ہی منحصر نہیں ہے
کیونکہ ادویات تو ہمارے جسم کی اعضاء کے افعال میں صرف تحریک اور تقویت اور تیزی پیدا کر سکتی ہیں
لیکن وہ جسم میں بذات خود خون اور گوشت اور چربی نہیں بن سکتی ہیں
کیونکہ یہ کام غذا کا ہے پس جب تک صحیح غذا کے استعمال کو اصولی طور پر مد نظر نہ رکھا جائے تو اکثیر سے اکثیر مقوی ادویات بھی اکثر بے سود ثابت ہوتی ہیں اگر ان کے مفید اثرات ظاہر بھی ہوں تو بھی غلط غذا سے بہت جلد ان کے اثرات ضائع ہو جاتے ہیں
حصول قوت میں اغذیہ کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگائیں کہ حکماء اور ڈاکٹروں نے تقویت کے لیے جو ادویات تجویز کی ہیں ان میں عام طور پر غذا کو زیادہ سے زیادہ شامل کیا ہے
مثلا حلوہ جات ہریرہ جات یا وٹامنز اور خمیرہ جات وغیرہ شامل ہیں
ان میں بھی زیادہ تیز قسم کی اغذیہ اور ادویات میں تبدیل کرنے کی صورت میں ملٹی وٹامن قسم کی ادویہ شامل ہیں کسی جگہ بھی ان میں غذائی اثرات کو نظر انداز نہیں کیا گیا
یہی فن یا سائنس کا مدنظر بھی ہے جب بھی کوئی دوا وٹامنز بنائے جاتے ہیں ان کا منظور نظر بھی غذا کا حصول ہی ہوتا ہے
ہم روزانہ زندگی میں جو پلاؤ زردہ وغیرہ یا دیگر خوراکیں مختلف شکلوں میں استعمال کرتے ہیں
یہ سب کچھ اغذیہ کو ادویات سے ترتیب دے کر ان میں تقویت پیدا کی جاتی ہے
اس طرح سوجی کی بنی ہوئی سویاں ڈبل روٹی حلوہ پراٹھے روٹی یہ سب کچھ طاقت کو مدد رکھ کر اتباع اور حکماء نے ترتیب دیے ہیں یا ہماری روز مرہ کی روٹین میں یہ شامل ہیں یا ہمارے زور روز مرہ کے تجربات اور یقین میں شامل ہیں کہ یہی وہ اشیاء ہیں یا یہی وہ طریقہ کار ہے جن کے کھانے سے ہمیں صحت حاصل ہوگی یا ہمارے جسم میں نشونما کا سلسلہ جاری رہے گا
البتہ ان کے صحیح مقام استعمال کو جاننے اور مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے
غذا کے صرف کھا لیتے ہی طاقت پیدا نہیں ہو جاتی بلکہ حقیقی طاقت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب غذا کھا لینے کے بعد صالح اور مقوی خون بن جاتا ہے صالح اور مقوی خون میں حرارت اور رطوبت ہوتی ہے جو حرارت عریزی اور رطوبت کی مدد کرتے ہیں حرارت غریزی اور رطوبت غریزی کا صحیح طور پر پیدائش افعال اثرات اور خواص وہ فوائد کچھ وہی لوگ سمجھتے ہیں یا سمجھ سکتے ہیں جنہوں نے قران حکیم میں مختلف مقامات پہ
ربوبیت اور رحمت کی حکمت و اہمیت اور افعال و اثرات اور خواص اور قواعد کو ذہن نشین کرنے کی کوشش کی ہے ان کو یہ شوق و جذبہ پیدا ہوا ہے کہ وہ زمانے میں ایک ربانی شخصیت بن جائے
بہرحال یہ ہر ایک کے لیے سہل کام نہیں ہے
تو کم از کم اس قدر ہی سمجھ لیں کہ صحت اور طاقت کا دارومدار صالح اور مقوی خون پر ہے اور خون سے بدن انسانی کو ہر قسم کی غذائیت اور قوت مل سکتی ہے اور ہماری غذا میں وہ تمام اجزاء شامل ہوتے ہیں جن سے صحت مند اور صالح خون پیدا ہو سکتا ہے
جو انسان میں غیر معمولی طاقت پیدا کر دے بلکہ وہ طاقت اس کو شیر کے مقابلے میں کھڑا کر سکتی ہے
اس کے ثبوت میں اپ پہلوان باڈی بلڈنگ کرنے والوں کو دیکھ سکتے ہیں جو کبھی کوئی دوا کھا کر پہلوان نہیں بنتے بلکہ غذا کھا کر پہلوان بنتے ہیں البتہ ان کو اس بات کا علم ہوتا ہے کہ وہ کیسی غذا کھائیں اور اس کو کس طرح ہضم کریں
اب تک کی باتوں سے جو نتیجہ اخذ ہوا ہے وہ یہ ہے کہ انسان کی زندگی کا دارومدار غذا کھانے اور پینے کے اشیاء ہوا اور روشنی اور انسانی وجود کی حرکت اور سکون اور انسانی نفس یعنی اندرونی حرکت اور سکون پر منحصر ہے جس میں نیند اور بیداری بھی شامل ہے
اس کے ساتھ ساتھ انسانی وجود کے اندرونی نظام یعنی مدافتی جو نظام ہے جو انسان کے عمل دخل کے بغیر چل رہا ہے اس کا صحت مند ہونا اور درست ہونا بھی ضروری ہے تاکہ غذا جو انسانی وجود میں داخل ہوئی ہے یا ہوا اور روشنی سے جش فوائد حاصل ہوئے ہیں یا انسانی وجود کے حرکت اور سکون سے جو فوائد حاصل ہوئے ہیں یا انسانی نفسیات کی حرکت اور سکون سے جو فوائد حاصل ہوئے ہیں ان کو حاصل کر سکے اور جو غیر ضروری ہے اس فضلے کو انسانی وجود سے باہر خارج کر سکے اب انسانی وجود سے فضلات کے اخراج کا جو نظام ہے جس میں گردوں کا جو کردار ہے جس میں انتوں کا کچھ کردار ہے جس میں مثانے کا کردار ہے یعنی غدد ناقلہ اور غدد جاذبہ کو جو کردار ہے وہ بہت اہم ہے اسے سمجھنے کی ضرورت ہے مگر یہ کیونکہ ڈاکٹروں کے متعلق ہے اطباع کے متعلق ہے وہ عام ادمی کو سمجھنا ضروری نہیں ہے
مگر عام ادمی کو جو بات سمجھنی ہے وہ یہ ہے کہ انسان کے لیے جو لازمی چیزیں ہیں اسے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے وجود کی ضرورت کون سی غذا ہے اور کتنی مقدار میں ہے یا اس کے وجود کو خوا کی یا روشنی کی ضرورت ہے اور کتنی مقدار میں ہے یا اس کے وجود کو حرکت اور سکون کی ضرورت ہے اور کتنی مقدار میں ہے یا اس کے وجود کو یعنی انسانی ذہن کو اندرونی طور پر نفسیاتی طور پہ سکون کی یا حرکت کی ضرورت ہے کیسی اور کتنی مقدار میں ہے یہ جاننا انسان کے لیے بہت ضروری ہے
اگر یہ پانچ چھ چیزیں درست ہیں تب ہی انسان کا اندرونی نظام جسے ہم استفراغ یا احتباس کا نظام کہتے ہیں
یعنی جاذبہ اور غدد ناقلہ درست طور پر کام کریں گے اور جو ضروری چیزیں ہیں ان کو وجود میں روکیں گے اور جو غیر ضروری چیزیں ہیں انہیں وجود سے نکال کے باہر پھینکیں گے
اگر ہمیں غذا کی افادیت یا ہمارے وجود میں اس کی ضرورت کا علم نہیں ہے تو ہم اکثر وہی چیز وہی غذائیں جو ہمیں فائدہ مند نظر ارہی ہیں جو ہم عام طور پہ فائدہ مند سمجھ کے کھا رہے ہیں وہ ہمارے لیے مصیبت کا سبب بن جاتی ہیں یا مرض کا سبب بن جاتے ہیں
اپنی رائے کا ظہار کریں آپ کی رائے ہمارے لئیے بہت مفید ہے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
آپ نے میرا پیج وزٹ کیا آپ کا شکریہ آپ اور آپ کی رائے میرے لیئے محترم ہےمیں پہلی فرست میں آپ کو رپلائی کروں گا اپنا خیال رکھنا