خنزیر کا گوشت ,شراب ہارٹ بلاکیج امراض
جگر اور اخلاقی زوال کی سب سے بڑی وجہ
کائنات کے خالق اور انسان کو مٹی کے گارے سے تخلیق کرنے والے رب نے جب انسان کو زمین پر اپنا خلیفہ مقرر کیا تو اسے "اشرف المخلوقات" کے لقب سے نوازا۔ یہ اعزاز اور شرف محض جسمانی ساخت کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس "غیرت" اور "حیا" کی بنیاد پر ہے جو انسان کو حیوانات سے ممتاز کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو نہ صرف جسمانی امراض سے بچانا چاہتا ہے بلکہ اس کے اس وقار اور اعزاز کو بھی قائم رکھنا چاہتا ہے جو اس کی انسانیت کی بنیاد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے خنزیر اور شراب کو قطعی طور پر حرام قرار دیا، کیونکہ یہ دونوں چیزیں انسانی صحت، اس کی عقل اور اس کے بلند اخلاقی کردار کی جڑیں کھوکھلی کر دیتی ہیں۔
1 قرآنی حکمت اور تخلیقِ انسانی کا اعزاز
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا واضح ارشاد ہے کہ "وہ ان کے لیے پاکیزہ چیزوں کو حلال کرتا ہے اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام قرار دیتا ہے"۔ خنزیر کے لیے قرآن نے "رجس" کا لفظ استعمال کیا ہے جس کے معنی انتہائی گندگی اور غلاظت کے ہیں۔
انسان کو پیدا کرنے والا رب بہتر جانتا ہے کہ کون سی غذا اس کے بنائے ہوئے شاہکار یعنی انسانی جسم اور روح کے لیے موزوں ہے۔
یہ مہم اس حقیقت کو واضح کرنے کے لیے ہے کہ حرمت کا یہ حکم محض ایک پابندی نہیں بلکہ انسان کے اپنے شرف، اس کی عزت اور اس کی نسلوں کی بقا کا ضامن ہے۔ ربِ ذوالجلال چاہتا ہے کہ اس کا بندہ ان غلیظ غذاؤں سے پاک رہے جو اسے درندگی اور بے حیائی کی طرف لے جاتی ہیں۔
2 غیرتِ انسانی اور حیوانات کا فطری تقابل
انسانی شرف کا سب سے بڑا تقاضا اس کی وہ "غیرت" ہے جس کی بدولت وہ اپنے رشتوں کا تحفظ کرتا ہے اور اپنی مادہ یا شریکِ حیات کو کسی دوسرے کے ساتھ بانٹنا اپنی موت تصور کرتا ہے۔ یہی وہ فطرت ہے جو کائنات کے دیگر غیرت مند جانوروں جیسے شیر، بھیڑیے اور عقاب میں بھی رکھی گئی ہے۔ سائنسی مشاہدات اور جنگلی حیات کی تحقیق یہ ثابت کرتی ہے کہ بھیڑیا ایک انتہائی غیرت مند اور وفادار جانور ہے۔
اگر بھیڑیے کی مادہ مر جائے تو وہ اپنی پوری زندگی کسی دوسری مادہ کے ساتھ جفتی نہیں کرتا، یہ وفاداری کا وہ معیار ہے جو فطرت ہمیں سکھاتی ہے۔
اسی طرح بلا اپنے علاقے میں کسی دوسرے نر کے بچوں کو برداشت نہیں کرتا کیونکہ وہ اپنی حاکمیت اور غیرت پر سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔
3 خنزیر کی ذلیل فطرت اور اخلاقی انحطاط
ان تمام جانوروں کے برعکس خنزیر دنیا کا وہ واحد اور غلیظ ترین جانور ہے جس میں غیرت اور حیا کا مادہ سرے سے موجود ہی نہیں۔ خنزیر کی یہ جبلت اور فطرت ہے کہ جب وہ مادہ پر چڑھتا ہے تو کئی دوسرے نر ایک قطار بنا کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایک نر اترتا ہے تو دوسرا فوراً اس کی جگہ لے لیتا ہے اور یہ عمل اسی طرح جاری رہتا ہے۔ اس جانور میں اپنی مادہ کے لیے "ملکیت" یا "وفا" کا کوئی احساس نہیں پایا جاتا۔
جب انسان اس جانور کا گوشت مسلسل استعمال کرتا ہے تو اس کی یہ بے غیرتی اور بے حسی انسانی خون اور خلیات کا حصہ بننے لگتی ہے، جس سے انسان کے اندر موجود وہ فطری غیرت مر جاتی ہے جو اسے اپنی ماں، بہن اور بیٹی کے تقدس کا احساس دلاتی ہے۔
4 مغربی معاشرے کا المیہ اور غذا کے اثرات
آج مغرب میں جہاں خنزیر کا گوشت اور شراب روزمرہ کی غذا کا حصہ بن چکے ہیں، وہاں خاندانی نظام اور انسانی شرف کی تباہی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ شراب انسان سے اس کا ہوش و حواس چھین لیتی ہے اور خنزیر کا گوشت اس کی فطری غیرت کو ختم کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان معاشروں میں "وائف سویپنگ" (بیویوں کا تبادلہ) اور دیگر شرمناک حرکات کو برا نہیں سمجھا جاتا۔ انسان کا شرف تو یہ تھا کہ وہ اپنی محبوبہ یا بیوی کے لیے جیتا اور اس کے تقدس کی خاطر جان دے دیتا، لیکن ان غلیظ غذاؤں نے انسان کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں وہ حیوانوں سے بھی بدتر ہو چکا ہے۔ کتا، بلی یا گائے کا نر بھی اپنی ماں یا بہن پر نہیں چڑھتا، لیکن ان غذاؤں کے زیرِ اثر انسان رشتوں کی تمیز بھی کھو چکا ہے۔
5 طبی تحقیقات اور ہارٹ بلاکیج کے اسباب
حکیم انقلاب صابر ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیقات اور جدید میڈیکل سائنس اس بات پر متفق ہیں کہ خنزیر کا گوشت انسانی صحت کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ یہ گوشت جسم میں سوداویت اور تعفن پیدا کرتا ہے اور خون کو انتہائی غلیظ اور سرد خشک (عضلاتی اعصابی) کر دیتا ہے۔ اس میں موجود کولیسٹرول کی اتنی بڑی مقدار پائی جاتی ہے جو انسانی جسم کا درجہ حرارت پگھلانے میں ناکام رہتا ہے، جس کے نتیجے میں یہ چربی شریانوں میں جم جاتی ہے اور "ہارٹ بلاکیج" کا سب سے بڑا سبب بنتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ معدے اور آنتوں میں ایسے خطرناک کیڑے پیدا کرتا ہے جو انسانی اعصاب کو کمزور کر دیتے ہیں اور دائمی تبخیرِ معدہ کا شکار بنا دیتے ہیں۔
6 سیکسی جذبات کا بھڑکنا اور شرفِ انسانی
کا زوال
ایک اہم طبی نکتہ یہ بھی ہے کہ خنزیر کا گوشت انسانی جسم میں شہوانی اور سیکسی جذبات کو غیر فطری طور پر بھڑکاتا ہے، لیکن ساتھ ہی اس شرف اور غیرت کو چھین لیتی ہے جو ان جذبات کو اعتدال اور پاکیزگی فراہم کرتی ہے۔ انسان کا اصل اعزاز اس کا وہ ضمیر ہے جو اسے پاکیزہ اور ناپاک کے درمیان فرق سکھاتا ہے۔ جب یہ ضمیر مر جاتا ہے تو انسان محض ایک گوشت کا لوتھڑا بن کر رہ جاتا ہے جس کی زندگی کا مقصد صرف شہوت رانی ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے شراب اور خنزیر کو حرام کر کے دراصل انسان کو اس درندگی سے بچایا ہے تاکہ وہ اپنی نسلوں کو حیا اور وفا کا درس دے سکے۔
7 نتیجہ اور مہم کا پیغام
"غذا سے شفا" کے پلیٹ فارم سے ہمارا پیغام واضح ہے کہ تندرستی صرف بیماری سے نجات کا نام نہیں بلکہ ایک پاکیزہ روح اور غیرت مند کردار کا نام بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ہر حکم انسانی بھلائی پر مبنی ہے۔ خنزیر اور شراب سے پرہیز دراصل اپنی انسانیت، اپنی غیرت اور اپنی صحت کی حفاظت کا عہد ہے۔
ہمیں ایسی غذاؤں کی طرف لوٹنا ہوگا جو ہمارے جسم کو توانائی اور ہماری روح کو پاکیزگی عطا کریں۔ پاکیزہ غذائیں ہی ایک پاکیزہ اور غیرت مند معاشرے کی ضامن ہیں
اس لئیے آپ شراب اور خنزیر کے گوشت سے دور رہیں کیونکہ یہ انسانی وجود کی صحت اور اخلاقی اقدار دونوں کے لیے ہے زہر قاتل ہے
x

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
آپ نے میرا پیج وزٹ کیا آپ کا شکریہ آپ اور آپ کی رائے میرے لیئے محترم ہےمیں پہلی فرست میں آپ کو رپلائی کروں گا اپنا خیال رکھنا