زندگی کی قیمت اللہ کی نظر میں

زندگی کیا ہے

 1. زندگی کی حقیقت: مٹی 

اور روح کا امتزاج

اسلام کے مطابق انسان صرف مادّہ (مٹی) نہیں اور نہ ہی محض شعور کی لہریں ہے، بلکہ دو بنیادی عناصر کا مجموعہ ہے
1. جسم (مادہ)  جو زمین سے بنایا گیا
2. روح (امرِ ربّی) جو اللہ کی طرف سے پھونکی گئی
قرآن میں آتا ہے

 ثم سواه ونفخ فيه من روحه" (السجدہ: 9)
پھر اللہ نے اسے درست کیا اور اس میں اپنی روح پھونکی۔

یہاں “روح” کو اللہ نے اپنی طرف منسوب کیا، یعنی یہ عام مخلوقی عنصر نہیں بلکہ خاص شرف کا حامل ہے۔

2. حیوان اور انسان میں بنیادی فرق

آپ نے درست فرمایا کہ:

درد، خوشی، بھوک، افزائش نسل ، یہ سب حیوانات میں بھی ہیں۔

شہد کی مکھی اور چیونٹی کا نظام حیران کن ہے۔
کتے کی وفاداری مثال ہے۔

قرآن بھی اس کو تسلیم کرتا ہے:
> "وما من دابة في الأرض ولا طائر يطير بجناحيه إلا أمم أمثالكم 

(الأنعام: 38)
زمین میں چلنے والے اور پرندے سب تمہاری طرح امتیں ہیں۔
تو فرق کیا ہے؟
فرق تین چیزوں میں ہے:

1. تکلیفِ شرعی (مکلف ہونا)
2. اختیار کے ساتھ اخلاقی ذمہ داری
3. علم الاسماء (مفہومی و تجریدی علم)
جب اللہ نے آدم کو پیدا کیا تو فرمایا:
> "وعلم آدم الأسماء كلها" (البقرہ: 31)
یہ "اسماء" محض الفاظ نہیں بلکہ اشیاء کی حقیقت، مفہوم، ربط اور تجریدی علم ہے — یعنی abstraction، تخلیقی تصور، نظریاتی فہم۔

حیوان instinct پر چلتا ہے۔
انسان instinct کے خلاف بھی فیصلہ کر سکتا ہے۔
شیر کبھی گھاس کھانے کا اخلاقی فیصلہ نہیں کرے گا۔
انسان روزہ رکھ کر بھوک کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے۔
یہی فرق ہے۔

3. پہاڑوں پر امانت پیش کرنا — کیا پہاڑوں میں شعور ہے؟
آپ نے جس آیت کا ذکر کیا وہ سورۃ الاحزاب میں ہے:

إنا عرضنا الأمانة على السماوات والأرض والجبال فأبين أن يحملنها وأشفقن منها وحملها الإنسان إنه كان ظلوما جهولا" (الأحزاب: 72)

یہاں چند اہم نکات ہیں:
1, امانت کیا ہے؟

مفسرین کے مطابق "امانت" سے مراد ہے:

اختیار (Free Will)

تکلیفِ شرعی
جواب دہی

حلال و حرام کا شعور
یعنی اخلاقی ذمہ داری کا بوجھ۔
2, کیا پہاڑ واقعی شعور رکھتے ہیں؟

علمائے تفسیر کے دو موقف ہیں:
بعض کہتے ہیں کہ اللہ نے انہیں ادراک عطا کیا تھا۔

بعض کہتے ہیں کہ یہ تمثیلی انداز (بلاغت) ہے تاکہ انسان کو امانت کی عظمت کا احساس ہو۔
قرآن میں کئی مقامات پر کائنات کی تسبیح کا ذکر ہے:
 وإن من شيء إلا يسبح بحمده ولكن لا تفقهون تسبيحهم (الإسراء: 44)
یعنی ہر چیز تسبیح کرتی ہے، مگر تم سمجھ نہیں سکتے۔

لہٰذا اسلام کے مطابق شعور کی سطحیں مختلف ہو سکتی ہیں۔ مگر اخلاقی ذمہ داری صرف انسان کو دی گئی ہے۔

4. انسان ظالم اور جاہل کیوں کہا گیا؟

یہ سب سے اہم سوال ہے۔

اللہ نے فرمایا،

 إنه كان ظلوما جهولا"

یہاں کان کا مطلب یہ نہیں کہ ہر انسان لازماً ایسا ہے، بلکہ اس کی فطرت میں یہ کمزوری موجود ہے۔
ظالم کیوں؟
جب انسان اپنی خواہش کو اللہ کے حکم پر ترجیح دیتا ہے۔
جب اختیار کا غلط استعمال کرتا ہے۔
جب عدل کی جگہ نفس کو چنتا ہے۔
جاہل کیوں؟

کیونکہ انجام کو جانتے ہوئے بھی غفلت اختیار کرتا ہے۔
علم ہونے کے باوجود عمل نہیں کرتا۔
محدود عقل کے باوجود تکبر کرتا ہے۔
یعنی مسئلہ علم کی کمی نہیں، بلکہ علم کے غلط استعمال کا ہے۔

5. نیابتِ الٰہی کیا ہے؟
انسان کو زمین میں خلیفہ بنایا گیا
إني جاعل في الأرض خليفہ 

(البقرہ: 30)

خلافت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان خدا بن گیا بلکہ:
اللہ کے قانون کے مطابق زمین پر نظام قائم کرے۔

عدل کرے۔
فساد نہ پھیلائے۔

علم کو خیر کے لیے استعمال کرے۔

6. اے آئی اور انسان کی مثال آجکل جدید مثال
 

اے آئی سیکھاتی ہے

تجزیہ کرتی ہے

تخلیق جیسا عمل کرتی ہے
مگر:
اس کے پاس اخلاقی ذمہ داری نہیں

نیت نہیں

ثواب و گناہ نہیں

جواب دہی نہیں

اسی طرح حیوانات بھی:

شعور رکھتے ہیں

مگر مکلف نہیں ہیں

انسان کی فضیلت علم ,اختیار ,

 جواب دہی کے مجموعہ میں ہے۔

7. خلاصہ: انسان کی اصل حقیقت

انسان:
مٹی بھی ہے (تواضع کا سبب)
روح بھی ہے (شرف کا سبب)
عقل بھی ہے (تمیز کا سبب)
نفس بھی ہے (آزمائش کا سبب)
اختیار بھی ہے (امتحان کا سبب)
اسی لیے وہ:

فرشتوں سے بلند ہو سکتا ہے
یا حیوان سے بھی نیچے گر سکتا ہے

قرآن کہتا ہے: 

أولئك كالأنعام بل هم 

 (الأعراف: 179)

یعنی اگر انسان عقل استعمال نہ کرے تو وہ جانوروں سے بھی بدتر ہو سکتا ہے۔

آخری جواب: ظالم اور جاہل ہونے کا راز

انسان کو اتنی بڑی امانت دی گئی کہ وہ:

علم رکھتا ہے

اختیار رکھتا ہے

تخلیق کی صلاحیت رکھتا ہے

خیر و شر میں تمیز رکھتا ہے
مگر جب وہ:

نفس کی پیروی کرتا ہے

تکبر کرتا ہے

علم کو فساد کے لیے استعمال کرتا ہے

 تو وہ "ظلوم جہول، بن جاتا ہے۔
جیساکہ 28 فروری 2026 کو اسرائیل امریکہ نے ملکر ایران پر دوسری دفعہ پہلا حملہ کیا جس میں سے آئی کی کو کمانڈ دی گئی جس نے ایک بچیوں کے سکول پر حملہ کیا جس کے نتیجہ میں 165 بچیاں ناحق شہد ہوئیں جو اسکول پڑہنے آئی تھیں بعد میں امریکہ نے تردید کی کہ یہ حملہ ہم نے نہیں کیا اسرائیل نے کیا ہے 

اب انسانی تاریخ کے پڑہے انسانوں نے جو جدید تعلیم سے آراستہ تھے انسانیت کے خلاف جرم کیا اور جہالت کے درجہ بدرجہ اتم میں داخل ھوئے 

دنیاوی مفاد کی خاطر حالانکہ دنیا کا کوئی بڑا مفاد انسان کی جان سے زیادہ قیمتی ہر گز نہیں ہے

اسی طرح دبارہ محررہ 7/3/026 کو اسرائیل نے ایران کے تیل کے تیس کوؤں پر حملہ کیا جس سے تیل پورے شہر کی گلی کوچوں میں بہتا رہا اور اسے آگ لگ گئی جس سے بہت ساری بے گناہ انسانی جانیں ضائع ہوئیں

اسی طرح اجکل کی پروکسی وار کو دیکھ لیں ہر جگہ انسانی جہالت کا نشانہ انسان ہیں

تاریخ انسانی میں اتنا نقصان انسان کو کسی نے نہیں پہنچایا جتنا انسان نے انسان کو پہنچایا ہے 

 جہاں جہاں انسان نے علم کا استعمال انسانیت کے خلاف کیا وہ جالت کی اس گھاٹی میں جا گرا جہاں سے جہنم۔کا راستہ نکلتا ہے 

اس سے یہ ثابت ہوا کہ 
 انسان کی عظمت  ترقی ہی اس کے سقوط کا امکان بھی رکھتی ہے۔ 


ڈاکٹر محمد شاہ غرشین:

بانی: غذا سے شفاء ماہر غذائیت ،کلرتھراپی نظریہ رنگ ونور

 مستند معالج طب یونانی رجسٹرڈ پاکستان

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

آپ نے میرا پیج وزٹ کیا آپ کا شکریہ آپ اور آپ کی رائے میرے لیئے محترم ہےمیں پہلی فرست میں آپ کو رپلائی کروں گا اپنا خیال رکھنا