زندگی کی حقیقت
اسلام علیکم
ہم میں سے ہر شخص چاہتا ہے کہ میں بلا خوف زندگی گزاروں مگر اس کے لئیے پر امن ماحول کا ہونا لازم ہے پرامن ماحول تب ممکن ہے جب ہرفرد اپنی شخصی آزادی کی طرح دوسروں کی آزادی اور حق کا خیال رکھے
آج سے 14 سو سال پہلے آئے والے اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اصول دیا کہ اچھا مسلمان وہ ہے جو دوسرے کے لئیے بھی وہ پسند کرے جو اپنے لیئے پسند کرتا ہو
روڈ پر سفر کرتے وقت گاڑی چلاتے ہوئے جس طرح آپ اپنی گاڑی اور جان بچاتے ہیں اور ساتھ دوسروں کی گاڑی اور جا کا خیال رکھتے ہیں
عین اسی طرح زندگی بھی کچھ حدود میں قید ہے انسان کی پر امن خوشحال زندگی کو لازم ہے کہ معاشرے میں سب محفوظ ہوں سب کا مال جان عزت محفوظ ہو جب کبھی کسی شخص کے غلط افعال کردار کی وجہ سے کسی کی جان مال عزت خراب ھوگی تب وہ شخص بھی محفوظ نہیں رہے گا اور معاشرے کا سکون بھی تباہ ہوگا
دیکھیں اگر آپ کے سامنے کسی کا قتل ہو تو کیا پورا علاقہ پریشان نہیں ہوگا آپ پریشان نہیں ہونگے بالکل ہونگے علاقے میں خوف حراس پھیل جائے گا حالانکہ قتل کوئی اور ہوا ہے کسی اور نے کیا ہے تو آپ اور لگ کیوں پریشاں ہیں؟
وجہ یہ ہے کہ انسان سب ایک دوسرے کے اعضاء کی مانند ہیں جب ایک عضو کو تکلیف ہوگی تب دوسرے اعضاء بھی ڈسٹرب ہونگے اگر آپ کے سر میں درد ہے تو کیا باقی وجود پر سکون ہوگا ؟
جس طرح ایک درخت کی سو شاخیں ہیں اور ہزاروں پتے ہیں
اگر اس کی ایک شاخ کاٹ دی جائے تو کیا اس درخت میں کوئی کمی ہوگی یقینا ہوگی
اسی طرح انسان سب کے سب انسانے کے رشتے میں جڑے ہوئے ہیں جب ایک انسان پریشان ھوتا ہے تو باقی سب بھی ہو جاتے ہیں تو بحیثیت انسان سب ایک نسل کے ہیں ان کو امن سلامتی سے رہنے کے لئیے ایک دوسرے کے خلاف اقدام کرنے گی بجائے سب کی خدمت اور مدد کرنی چاہیے یہی وہ اصول ہے جس سے دنیا امن سلامتی حاصل کرسکتی ہے
اللہ تعالیٰ نے قرآن کے اندر فرمایا
جس شخص نے ایک انسان کو قتل کیا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا اور جس شخص نے ایک انسان کی مدد یا زندگی بچائی اس نے پوری انسانیت کو بچایا لیا
سب انسان برابر ہیں کسی کو رنگ نسل کی بنیاد پر اور پیسہ دولت یا اقتدار کی وجہ سے دوسرےانسا سے افضل ہر گز نہیں ہے
افضلیت کی بنیاد یہ ہے کہ کون کتنا پر امن اور دوسروں کی مدد کرنے والا ہے
اب جس نے خوش رہتا ہے وہ ان اصولوں کو اپنانے
اور یہ آپ تب کر سکتے ہیں جب
آپ کسی سے نفرت نہ کریں
جب آپ کسی سے جلن کریں
جب آپ کسی کی چیز بغیر اجازت کے کے نا لیں
جب آپ غصہ نہ کریں
جب آپ اپنے واعدے پورے کریں
جب آپ کسی کو دھوکہ نہ دیں
جب آپ کسی کے خلاف نفرت بھرے الفاظ کا استعمال نہ کریں
جو بات آپ کسی کے سامنے نہیں کر سکتے وہ اس کے پیچھے نہ کریں
جب آپ اپنے دل میں شک وسواس کو جگہ نہ دیں
جب بناوٹی لب لہجہ چھوڑ کر اخلاصِ کو اختیار کریں
جب آپ دکھاوے نمود و نمائش سے پرہیز کریں گے
تب آپ سکون سے رہیں گے اور دوسرے لوگ بھی پر سکون زندگی بسر کریں گے جو اپ کے ارد گرد رہتے ہیں تو کیا آپ کو میری بات سمجھ آگئی ہے
مطلب سب سے پہلے آپ کو اپنی ذہنی کیفیت خیالات کو کنٹرول کرنا ہوگا تب آپ اچھے انسان بن سکتے ہیں

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
آپ نے میرا پیج وزٹ کیا آپ کا شکریہ آپ اور آپ کی رائے میرے لیئے محترم ہےمیں پہلی فرست میں آپ کو رپلائی کروں گا اپنا خیال رکھنا