انسان جب ٹوٹتا ہے تو آواز ہمیشہ باہر نہیں آتی، اکثر اندر ہی اندر گونجتی رہتی ہے۔ کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جنہیں نہ آنکھیں پوری طرح بیان کر پاتی ہیں، نہ زبان۔ شک، خوف اور مایوسی یہ تینوں کیفیتیں آہستہ آہستہ انسان کے دل پر قبضہ کر لیتی ہیں۔ وہ ہنستا بھی ہے تو اداس، سوتا بھی ہے تو بے چین، جیتا بھی ہے تو جیسے بوجھ اٹھائے ہوئے۔
لیکن اسلامی نگاہ سے دیکھا جائے تو انسان کبھی تنہا نہیں ہوتا۔
ہم اکثر اللہ کو ایک عظیم، قادر، جلال والے رب کے طور پر جانتے ہیں جو یقیناً ہے مگر ہم اس کے ساتھ اس تعلق کو بھول جاتے ہیں جو محبت پر قائم ہے۔ اللہ کا بندے سے رشتہ محض خالق اور مخلوق کا نہیں، بلکہ شفقت اور رحمت کا رشتہ ہے۔
حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے۔ ذرا ٹھہر کر سوچئے ماں کی محبت کیسی ہوتی ہے؟
وہ بچہ جو بول بھی نہیں سکتا، اس کی آہٹ سے ماں اس کی ضرورت سمجھ لیتی ہے۔ وہ ضد کرے، روئے، ناراض ہو ماں اسے چھوڑتی نہیں۔
اگر ایک ماں اپنے بچے کو ہر حال میں گلے لگا سکتی ہے، تو وہ رب جس نے ماں کے دل میں محبت رکھی، وہ اپنے بندے سے کتنی محبت کرتا ہوگا؟
مایوسی دراصل اس لمحے پیدا ہوتی ہے جب انسان یہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ وہ اکیلا ہے، بے سہارا ہے، اس کی بات سننے والا کوئی نہیں۔
جب مسائل کا بوجھ اتنا بڑھ جائے کہ سانس لینا مشکل لگے، جب دل چاہے کہ سب ختم ہو جائے
تب اسلام ہمیں ایک عجیب سا مگر بہت سادہ راستہ دکھاتا ہے: اللہ سے بات کرو۔
ہاں، بات کرو اپنے رب سے
کسی مقررہ زبان میں نہیں، کسی خاص انداز میں نہیں۔ بس اکیلے بیٹھ جاؤ۔ دروازہ بند کر لو۔ آنکھیں بند کر لو۔ اور ایسے روؤ جیسے بچپن میں ماں کی گود میں رو کر دل ہلکا کر لیتے تھے۔ اللہ سے کہو: “یا اللہ! میں تھک گیا ہوں۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کیا کروں۔ میں کمزور ہوں۔” یقین مانیں، یہ کمزوری نہیں، یہی اصل بندگی ہے۔
ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہمیں پیدا کرنے والا وہی رب ہے جس نے یہ پوری کائنات بنائی؟
جس نے سورج کو جلایا، چاند کو چمکایا، سمندر کو حد دی جو دو سمندروں کے پانی کو آپس میں ملنے نہیں دیتا
کیا وہ ہمارے مسائل حل کرنے پر قادر نہیں؟ جب انسان خود کو اللہ کے حوالے کر دیتا ہے تو اسے ایک عجیب سا سکون ملتا ہے۔ جیسے کوئی بوجھ کندھوں سے اتر گیا ہو۔ کیونکہ پھر وہ جان لیتا ہے کہ اب میں اکیلا نہیں لڑ رہا، میرا رب میرے ساتھ ہے
بس اپنے معاملات اللہ کے حوالے کر دو
خودکشی کا خیال دراصل اس وقت آتا ہے جب انسان کو لگتا ہے کہ اندھیرا ہمیشہ رہے گا۔
مگر کیا رات کبھی مستقل رہتی ہے؟
فجر ضرور آتی ہے۔ قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ یہ
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا حکم ہے، مشورہ نہیں
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
ساری دنیا جمع ہو جائے کہ تمہیں فایدہ پہنچائے تو نہیں پہنچا سکتی جب تک اللہ نہ چاہے
اور ساری دنیا ملکر تمہیں نقصان پہنچانے کے درپے ہو جائے اللہ کی قسم نقصان نہیں پہنچا سکتی جب تک اللہ نہ چاہے
جس رب نے انسان کی حفاظت کا ایسا نظام بنایا ہے وہ کبھی ہمیں اکیلا نہیں چھوڑتا
بس آپ یہ کام کریں کہ
آپ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے ہیں یا نہیں رکھتے کوئی بات نہیں آپ میری بات مان لیں جب کبھی حالات اس نہج پر لے آئیں کہ آپ مرنا چاہیں تو یہ حرکت نہ کریں
بلکہ خود کو اللہ کے حوالے کردیں اور اکیلے میں بیٹھ کر اللہ سے بات کریں وہ آپ کے قرب ھے آپ کی بات سنتا ہے
اللہ فرماتے ہیں
میں انسان۔کی رگ جان سے زیادہ قریب ہوں
زندگی اللہ کی امانت ہے۔ ہم اپنی تکلیف سے بھاگنا چاہتے ہیں، مگر شاید وہی تکلیف ہمیں اللہ کے قریب لانے کا ذریعہ ہو۔ کتنے لوگ ہیں جو آزمائش میں ٹوٹنے کے بجائے بن گئے، کیونکہ انہوں نے مصیبت کو دروازہ نہیں بلکہ پل سمجھا۔
اگر آج دل مرنے کو چاہتا ہے تو یاد رکھیں آپ کا رب آپ کو زندہ دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ آپ کی سسکیاں سنتا ہے، آپ کے آنسو گنتا ہے۔ آپ بس ایک قدم بڑھائیں، وہ ستر قدم بڑھاتا ہے۔
یاد رکھیں یہ وجود آپ کی ملکیت نہیں ہے یہ والدین کی محبت اور ان کے خون سے سینچا گیا ہے
اور اللہ کی امانت ہے اور امانت میں خیانت کوئی مہذب فرد برداشت نہیں کرسکے گا تو اللہ تعالیٰ بھی فرماتے ہیں کہ
جس نے خود کشی میں اس پر غضب ناک ہونگا اور اس نے جس طرح خود کو مارا ہے آپ قیامت تک ایسے ہی بار بار اپنے آپ کو مارتے رہو گے
یہ رب کی طرف سے سزاء ہے
کیا آپ کو معلوم ہے کہ جب انسان مرجاتا ہے تو کہا جاتا ہے
انسان کا بدن مٹی میں دفن ہوجاتا ہے
اور اس کا اوراء وہاں اپنے لئیے ایک اور وجود تخلیق کرلیتا ہے اپنی سابقہ شکل جیسا اور اسی وجود کے ساتھ وہ اعراف کی دنیا میں ہوتا ہے وہاں زندگی ایسے ہی جاری و ساری ہے جیسے یہاں ہے
اب دنیا میں مصائب مشکلات پریشانی غم سے نجات کے لئیے آپ نے خود کشی کی مگر آپ وہا جاکر بھی اس زندگی سے زیادہ عذاب میں مبتلا ہو جائیں تو پھر یہ گناہ کرنے کا کیا فائدہ ہے
اپنے رب کی طرف لوٹ آئیں۔ ماں کی گود
جیسا سکون آپ کو وہیں ملے گا۔
آپنے آپ کو سپرد کریں اس اللہ نا دیدہ قوت کے جس نے اپنا تعارف اللہ کے نام سے کروایا ہے رحمان کے نام سے۔کر وایا ہے

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
آپ نے میرا پیج وزٹ کیا آپ کا شکریہ آپ اور آپ کی رائے میرے لیئے محترم ہےمیں پہلی فرست میں آپ کو رپلائی کروں گا اپنا خیال رکھنا