انسانی جسم کی چھ طبقاتی تقسیم: ایک تحقیقی مطالعہ"

 انسانی جسم کو اللہ تعالیٰ نے بھی چھ مختلف حصوں میں تقسیم کیا ہے  



زیرِ نظر آرٹیکل میں مجددِ طب حکیم صابر ملتانیؒ کے بیان کردہ قانونِ مفرد اعضا کی روشنی میں انسانی جسم کے چھ بنیادی مراکز اور ان کے افعال کی وضاحت کی گئی ہے۔ یہ تحریر نہ صرف عام قاری کے لیے بلکہ طبِ اسلامی سے دلچسپی رکھنے والے معالجین کے لیے بھی ایک کلیدی راہنما ہے تاکہ وہ امراض کی تشخیص علامات اور اعضائی نظام کی بنیاد پر کر سکیں

اس بات کو اس تصویر میں سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے جو قابل غور ہے

انسان کی فزیالوجی پر اب تک سائنس نے اپنے انداز میں بڑی تحقیق کی ہے مگر مندرجہ 
بالا تقسیم مجدد طب دوست محمد صابر ملتانی رحمۃ اللہ کی ہے جو اسلامی طور پر 
تصوف کی نکتہ نگاہ سے 
 انسانی طبیعت اور اس کے اندر تغیرات جو چاہیے نفسیاتی ہوں یا طبعی اور امراضِ علاماتِ سمٹمز کی بنیاد پر یہ بات ثابت ہوتی  ہے  اور نفسیاتی اور تجربات کی بنیاد پر  مشاہدہ اس کو ثابت کرتا ہے 
اس کی سادہ سی تشریح یوں ہے کہ جو عام قاری کو سمجھ آئے جب کبھی کوئی  قاری یا ڈاکٹر اس آرٹیکل کو پڑھے جس کو اس نظام کو مکمل طور پر سمجھنا ہو تو مجھ سے رابطہ کرے اسے تفصیل سے سمجھایا جائے 

1, دائیں سائیڈ سر کی جہاں نیلا رنگ ہے یہ اعصاب کے کنٹرول کو ظاہر کرتا ہے یا یوں کہیں گے کہ اس ایریا میں پیدا ہونے والے امراض کا بنادی سبب اعصاب کے نظام میں خرابی کو ظاہر کرتا ہے۔
اعصاب کے ماتحت دو قوتیں ہیں
 ایک خبر رساں اعصاب
دوئم ،حکم رساں اعصاب 
نمبر 1 , کا ایرا حکم رساں اعصابی قوت کا ہے 
,نمبر  6, خبر رساں اعصابی نظام کا ایریا ہے 


2, جہاں سیاہ رنگ نظر آرہا ہے 
یہ دل اور عضلات کے ماتحت ایریا ہے اور۔ دل کے ماتحت عضلات ہیں 
عضلات کی دو قوتیں دل کے ماتحت کام کرتی ہیں
ایک ،ارادی عضلات  
یہ 2 نمبر ایریا ارادی عضلات کے ماتحت ہے 
دوئم ،غیر ارادی  عضلات
3,غیر ارادی عضلات کا ایرا ہے 

3,عضلاتی غدی ایریا ہے 
یہ بھی دل کے ماتحت ہے
غیر ارادی عضلات اسی سے متعلق ہیں 

4,غدی عضلاتی ایرا ہے
 جو خالص جگر کے  ماتحت ایریا ہے 
جگر کے ماتحت بھی دو قوتیں کام کرتی ہیں
1,عدد جاذبہ 
2,عدد ناقلہ 
5,یہ ایریا غدی اعصابی نظام کا حصہ ہے 
اور جگر کے ماتحت ہے
6,یہ ایریا اعصابی غدی ہے 
یہاں اعصاب کی حکومت ہے 
اس ایریا میں بھی اعصاب کی خرابی سے امراض پیدا ہوتے ہیں  
مطلب جہاں جس عضو کا ایریا حدود ہے وہاں امراض کا سبب متعلقہ عضو کے ماتحت کسی ایک نظام میں خرابی کو ظاہر کرتا ہے 
قانون قدرت یہ ہے کہ ایک عضو خاص کے ماتحت امراض دوسرے حصے میں نہیں ہوتے ہیں
ہاں البتہ تکلیف پیدا ہو سکتی ہے 
وہ ایسے ہی ہوگی جیساکہ کہ انسان کے سر میں درد ہو یا دانت میں مگر تکلیف میں سارا وجود مبتلہ ہوتا ہے

تحقیق وتحریر

ڈاکٹر محمد شاہ

بانی غذا سے شفاء





کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

آپ نے میرا پیج وزٹ کیا آپ کا شکریہ آپ اور آپ کی رائے میرے لیئے محترم ہےمیں پہلی فرست میں آپ کو رپلائی کروں گا اپنا خیال رکھنا