غذا سے شفاء خوراک سے علاج
غذا سے شفاء خوراک سے علاج ہے
تحریر: ڈاکٹر محمد شاہ غرشین
امام طب بو علی سینا (جس کو ایوی سینا کے نام سے سائنس دان جانتے ہیں)
سے کسی نے پوچھا زہر کیا ہے
فرمایا ہر وہ چیز جو انسان کے بدن کی ضرورت سے زائد ہو
قارئینِ کرام، السلام علیکم
آج میں آپ کے سامنے غذا سے شفاء کے وہ سو فیصد یقینی اور تجربہ شدہ حقائق لے کر حاضر ہوا ہوں جو آپ کو حیران کر دیں گے۔ میرا یہ پختہ ایمان اور مشاہدہ ہے کہ انسانی وجود میں پیدا ہونے والے اسّی فیصد امراض کی بنیادی وجہ ہماری ا
کیا جراثیم اور انفیکشن ہی اصل دشمن ہیں؟
جدید سائنس کہتی ہے کہ جراثیم یا انفیکشن امراض کے اسباب ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جراثیم اور انفیکشن تو مرض شروع ہونے کے بعد پیدا ہوتے ہیں۔ مرض کا اصل سبب اکثر جراثیم نہیں بلکہ ہماری غلط خوراک ہوتی ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی شعوری طور پر زہریلی یا سڑی ہوئی غذا تو نہیں کھاتا، پھر خوراک مرض کا سبب کیسے بنی؟
اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ عام عوام، بلکہ اکثر معالجین بھی خوراک کے طبعی اثرات سے پوری طرح واقف نہیں ہیں۔ ہم غذا کا انتخاب صرف دو بنیادوں پر کرتے ہیں۔
یا تو ذائقہ اور ٹیسٹ دیکھا جاتا ہے یا پھر یہ کہ کس غذا میں وٹامن یا آئرن وغیرہ زیادہ ہے۔
حالانکہ غذا کا انتخاب ان اثرات کی بنیاد پر ہونا چاہیے جو وہ انسانی جسم میں داخل ہو کر وہ پیدا کرتی ہے۔
یا جسمانی ضروریات کے مطابق ہونا چاہئے
مختلف غذاؤں کے اثرات الگ الگ ہوتے ہیں جو براہِ راست ہمارے خون کی خاصیت کو بدل دیتے ہیں۔
مثال کے طور پر بڑا گوشت یعنی بیف کا استعمال
اگر ایک شخص اپنی روزمرہ کی زندگی میں بیف کا زیادہ استعمال کرتا ہے، تو اس کے خون میں کچھ ایسی تبدیلیاں آتی ہیں جو بیماری کا باعث بنتی ہیں۔ بیف میں موجود آئرن کی کثیر مقدار خون کو گاڑھا کرتی ہے، جو آگے چل کر دل کی شریانوں میں رکاوٹ اور کولیسٹرول کا باعث بنتا ہے۔ بیف اپنی فطرت میں بادی، خشک اور دیر ہضم ہے، جسے ہضم کرنے کے لیے جگر کو اضافی زور لگانا پڑتا ہے۔ اس کے مسلسل استعمال سے قبض اور بواسیر جیسے تکلیف دہ امراض جنم لیتے ہیں۔
مرض کیا ہے؟ علامت یا سبب؟
جب خون کی خرابی سے بواسیر یا دل کی تکلیف ہوتی ہے، تو ڈاکٹر اسے ایک الگ مرض سمجھ کر علاج یا سرجری شروع کر دیتے ہیں۔ یہ علاج اکثر عارضی ثابت ہوتا ہے کیونکہ مرض کا اصل سبب یعنی غلط غذا کا استعمال وہیں موجود رہتا ہے۔ اصل مرض وہ علامت نہیں ہے، بلکہ خون کی وہ خرابی ہے جو بیف کے غلط استعمال سے پیدا ہوئی۔
غذا اور دوا میں فرق کیا ہے؟
شفاء کے حصول کے لیے ان دو باتوں کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔
غذا وہ مادہ ہے جو جسم میں جائے، اپنے اثرات مرتب کرے اور اس کے ساٹھ فیصد اجزاء ہمارے بدن کا حصہ بن کر خون میں شامل ہو جائیں۔
دوا وہ مادہ ہے جو جسم میں داخل ہو، اپنا اثر دکھائے اور پھر فضلے یا پیشاب کے راستے مکمل طور پر باہر نکل جائے۔
یہی وجہ ہے کہ دوا بار بار کھانی پڑتی ہے، جبکہ غذا جسم کا حصہ بن کر مستقل اثر دکھاتی ہے۔
ہمارا مشن غذا سے علاج ہے
اگر اسّی فیصد امراض کا سبب غلط غذا ہے، تو ان کا علاج بھی صحیح غذا کا انتخاب ہی ہے۔ ہم یہاں آپ کو یہی سھانے کے لیے موجود ہیں کہ اپنی بیماری کے مطابق صحیح خوراک کا انتخاب کیسے کریں؟
زندگی کیا ہے ؟
آپ نے کبھی خود سے پوچھا ؟
ابھی دن ہے پھر رات ہوگی تو دن کہاں چلا جاتا ہے ؟
ابھی جوان ہیں ہم تو ہمارا بچپن کہاں گیا ؟
یہ سب جانیں اس لنک پر کلک کریں
ہمارا مقصد آپ کو دواؤں کے چکر سے نکال کر قدرتی طور پر صحت یاب کرنا ہے
تحقیق وتحریر
ڈاکٹر محمد شاہ
بانی غذا سے شفاء
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
آپ نے میرا پیج وزٹ کیا آپ کا شکریہ آپ اور آپ کی رائے میرے لیئے محترم ہےمیں پہلی فرست میں آپ کو رپلائی کروں گا اپنا خیال رکھنا