نزلہ زکام
نزلہ، زکام اور بخار عام طور پر وائرل انفیکشن کی وجہ سے ہوتے ہیں، جو ہمارے نظام تنفس کو متاثر کرتے ہیں۔ موسم کی تبدیلی، قوت مدافعت میں کمی سے یہ مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
نزلہ، زکام اور بخار کی علامات
ناک کا بہنا یا بند ہونا۔
گلے میں خراش یا درد۔
چھینکیں آنا اور کھانسی۔
جسم میں درد اور تھکاوٹ۔
نزلہ زکام گلے کی خراش کی سب سے بڑی وجوہات تین ہیں
1) انسانی وجود کا ٹیمپریچر 37 سینٹی گریڈ سے کم ھوتا ہے اسے پورا کریں
2) الرجی کھڑی اشیا سے ہوتی ہے جس سے گلہ خراب ھوتا ہے ان سے پرہیز کریں
3)نظام ہضم کی خرابی سے قبض ہو جاتی ہے جس سے نزلہ زکام گلے کی خراش پیدا ہو جاتی ہے قبض کو دور کریں
حل؛ سنا مکی ،برگ بانسہ سونف کا قہوہ بنا کر صبح شام پلائیں
درجہ حرارت بڑھ جانا (بخار)۔
نمک ملے پانی کے غرارے
گلے کی خراش اور سوزش کو کم کرنے کے لیے نیم گرم پانی میں چٹکی بھر نمک ڈال کر غرارے کریں۔ یہ جراثیم کش بھی ہوتا ہے۔
بھاپ لینا (Steam Inhalation)
بند ناک اور سانس کی نالیوں کو کھولنے کے لیے گرم پانی کی بھاپ لیں۔ آپ پانی میں تھوڑا سا پودینہ یا یوکلپٹس کا تیل بھی شامل کر سکتے ہیں۔
ادرک اور شہد کی چائے
ادرک میں سوزش کم کرنے والی خصوصیات ہوتی ہیں۔ ادرک کا قہوہ بنا کر اس میں شہد ملا کر پینے سے گلے کو سکون ملتا ہے اور نزلہ زکام میں افاقہ ہوتا ہے۔
ہائیڈریشن (پانی کا زیادہ استعمال)
جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دیں۔ نیم گرم پانی، سوپ، اور تازہ پھلوں کا رس استعمال کریں۔ یہ بخار کی صورت میں جسم کے درجہ حرارت کو اعتدال میں رکھنے میں مدد کرتے ہیں۔
آرام اور نیند
جسم کو وائرس سے لڑنے کے لیے توانائی کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے مکمل آرام کریں۔
جوشاندہ (نزلہ و زکام کے لیے)
یہ سینے کی جکڑن اور نزلہ کے لیے بہترین ہے۔
اجزاء:* ادرک (ایک انچ کا ٹکڑا)، کالی مرچ (3-4 دانے)، دارچینی (ایک چھوٹا ٹکڑا)، تلسی کے پتے (5-7 عدد)، اور گڑ (حسبِ ذائقہ)۔
طریقہ:* ان تمام چیزوں کو دو کپ پانی میں پکائیں جب پانی ایک کپ رہ جائے تو اسے چھان کر نیم گرم پی لیں۔
ہلدی والا دودھ (اینٹی بائیوٹک اثر کے لیے)
ہلدی قدرتی طور پر سوزش کو کم کرتی ہے اور جراثیم کے خلاف لڑتی ہے۔
اجزاء:* ایک گلاس گرم دودھ، آدھا چائے کا چمچ ہلدی۔
طریقہ:* گرم دودھ میں ہلدی ملا کر رات کو سوتے وقت پیئیں۔ یہ گلے کی سوزش اور جسم درد کے لیے بہت مفید ہے۔
شہد اور ادرک کا شربت
اجزاء:* ایک چائے کا چمچ تازہ ادرک کا رس، ایک چائے کا چمچ خالص شہد۔
طریقہ:* ان کو مکس کر کے دن میں دو سے تین بار استعمال کریں۔ یہ کھانسی اور گلے کی خراش کے لیے اکسیر ہے۔
لونگ اور شہد (سخت کھانسی اور نزلہ کے لیے)
اجزاء
2 عدد لونگ، ایک چمچ شہد۔
طریقہ:* لونگ کو ہلکا سا بھون کر پیس لیں اور شہد میں ملا کر چاٹ لیں۔ یہ سینے کی بلغم کو صاف کرنے میں مدد کرتا ہے۔
*"سفوفِ شفا" (نزلہ، زکام اور سر درد کے لیے)
یہ نسخہ پرانے نزلہ اور چھینکوں کے لیے بے حد مفید ہے۔
اجزاء:
ملٹھی (پسی ہوئی): 20 گرام
سونف: 20 گرام
خشخاش: 20 گرام
بنفشہ کے پھول: 10 گرام
طریقہ تیاری: تمام چیزوں کو باریک پیس کر سفوف (پاؤڈر) بنا لیں۔
طریقہ استعمال:* آدھا چائے کا چمچ صبح و شام نیم گرم پانی یا دودھ کے ساتھ لیں۔ یہ نزلہ کو خشک کرنے میں مدد دیتا ہے۔
"قہوۂ جوشِ حیات" (بخار اور جسم درد کے لیے)
یہ بخار کی حدت کو کم کرتا ہے اور جسم کی سوزش ختم کرتا ہے۔
اجزاء:
ادرک: 1 انچ کا ٹکڑا
کالی مرچ: 3 دانے
دارچینی: 1 چھوٹا ٹکڑا
بڑی الائچی: 1 عدد
گلِ بنفشہ: 1 چمچ
طریقہ تیاری
دو کپ پانی میں ان تمام اجزاء کو ہلکی آنچ پر پکائیں جب پانی ایک کپ رہ جائے تو اتار لیں۔
طریقہ استعمال:* اس قہوہ میں ایک چمچ شہد ملا کر گرم گرم پی لیں۔ اسے پینے کے بعد ہوا سے بچیں اور کمبل اوڑھ کر لیٹ جائیں تاکہ پسینہ آئے۔ پسینہ آنے سے بخار کا زور ٹوٹ جاتا ہے۔
"چٹنیٔ گلا" (گلے کی خراش اور بلغم کے لیے)
اگر نزلہ کے ساتھ گلے میں بلغم یا کھانسی ہو، تو یہ نسخہ بہت کارگر ہے۔
اجزاء:
شہد (خالص) 3 کھانے کے چمچ
ادرک کا رس 1 کھانے کا چمچ
پسی ہوئی کالی مرچ چٹکی بھر
دارچینی پاؤڈر ایک چٹکی
طریقہ تیاری: ان سب کو اچھی طرح مکس کر کے ایک شیشی میں رکھ لیں۔
طریقہ استعمال:
ایک چائے کا چمچ دن میں تین بار چاٹ لیں۔
بخار کے لیے ایک اہم دیسی ٹوٹکا (سائنسی توجیہ کے ساتھ)
بخار کی شدت میں پیشانی پر پٹیاں رکھنا سب سے مستند طریقہ ہے، مگر اس میں دیسی ٹچ یوں شامل کریں:
طریقہ:* پانی میں تھوڑا سا عرقِ گلاب یا سرکہ ملا کر کپڑا بھگوئیں اور پیشانی پر پٹیاں رکھیں۔ یہ جسم کی اضافی حرارت کو جذب کرنے میں سادہ پانی سے زیادہ تیز اثر دکھاتا ہے۔
`نزلہ، زکام اور بخار کے دوران جسم کو ایسی غذاؤں کی ضرورت ہوتی ہے جو زود ہضم (آسانی سے ہضم ہونے والی) ہوں اور قوتِ مدافعت کو بڑھانے میں مدد کریں۔
کیا کھائیں (مفید غذائیں)
یخنی (سوپ)
مرغی کی یخنی یا سبزیوں کا سوپ اس بیماری کا بہترین علاج ہے۔ یہ جسم میں پانی کی مقدار کو پورا کرتا ہے اور گلے کو سکون پہنچاتا ہے۔ اس میں ادرک اور کالی مرچ کا استعمال ضرور کریں۔
دلیہ یا کھچڑی
یہ غذائیں ہلکی ہوتی ہیں اور معدے پر بوجھ نہیں ڈالتی ہیں۔ ان میں تھوڑی سی کالی مرچ اور ہلدی شامل کرنے سے ان کی افادیت بڑھ جاتی ہے۔
موسمی پھل
وٹامن سی سے بھرپور پھل جیسے مالٹے، کینو، امرود اور گریپ فروٹ قوت مدافعت کو مضبوط کرتے ہیں۔ (اگر گلے میں شدید درد ہو تو مالٹے کا رس تھوڑا نیم گرم کر کے پی لیں۔)
ادرک اور لہسن
اپنی ہر غذا میں ان کا استعمال رکھیں۔ لہسن میں موجود 'ایلیسن' (Allicin) وائرس سے لڑنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
ابلی ہوئی سبزیاں
گاجر، مٹر اور لوبیا کو ہلکا ابال کر یا سوپ میں ڈال کر کھائیں۔
کیا نہ کھائیں (پرہیز)
ٹھنڈی اشیاء
ٹھنڈا پانی، کولڈ ڈرنکس، آئس کریم اور برف والے مشروبات سے مکمل پرہیز کریں۔ یہ گلے کی سوزش کو بڑھاتے ہیں۔
تلی ہوئی اور چکنائی والی غذائیں:
سموسے، پکوڑے، پراٹھے اور بازار کے فاسٹ فوڈز بلغم کو گاڑھا کرتے ہیں اور ہضم ہونے میں مشکل ہوتے ہیں۔
ڈیری مصنوعات
دودھ، دہی اور مکھن (ہلدی والے دودھ کے علاوہ) نزلہ زکام میں بلغم کی پیداوار کو بڑھا سکتے ہیں، اس لیے بیماری کی شدت میں ان سے احتیاط کریں۔
باسی کھانا
بیماری کے دوران ہمیشہ تازہ پکا ہوا کھانا کھائیں۔
"یہ معلومات صرف تعلیمی مقاصد کے لیے ہیں۔ کسی بھی بیماری کی تشخیص یا علاج کے لیے ہمیشہ ڈاکٹر سے مشورہ کریں
محمد شاہ غرشین

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
آپ نے میرا پیج وزٹ کیا آپ کا شکریہ آپ اور آپ کی رائے میرے لیئے محترم ہےمیں پہلی فرست میں آپ کو رپلائی کروں گا اپنا خیال رکھنا