تخلیق انسان اور فلسفہ حیات ؟

 تخلیق انسان اور فلسفہ حیات

 

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ

معزز قارئین

زندگی کے فلسفہ حیات پر آج تک بہت کچھ لکھا گیا ہے انسان اللہ تعالیٰ کی قدرت اور رحمت کاملہ کا ایسا شاہکار ہے کہ کائنات میں اس جیسی اعظیم تخلیق اور نہیں ہے 

کائنات کیسے تخلیق ہوئی اس پر سائنس بہت بات کر چکی ہے مگر اس کائنات کو کس نے تخلیق کیا اس کا دعویٰ آج تک کسی نے نہیں کیا ماسوائے اللہ رب العالمین کے 

دنیا کی تاریخ اور تمام مذاہبِ کا جائزہ لیا جائے تو ایک مذہب جو دین ہے مکمل ضابطہ حیات ہے وہ اسلام ہے 

کیونکہ اسلام  کا قانون جو آخری پیغمبر حضرت محمد (احمد) صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم

جو ان پڑہ تھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر کتاب قرآن نازل ہوا جو آج کتاب کی صورت میں موجود ہے 

قرآن کریم کا دعویٰ ہے کہ 

اے جنات ،انسان تم سب کو چیلینج ہے کہ تم اس جیسی ایک کتاب بنا کر دکھاؤ یا ایک آیت ہی بنا لاؤ تم ہر گز ایسا نہ کر سکتے اگر چہ تم اپنے سارے لاؤ لشکر ساتھ ملا کر کام کرو 

آج تک دنیا کی تاریخ چھان مار لیں کوئی طاقت اس چیلنج کو قبول نہ کر سکی 

اور اس جیسا کلام پیش نہیں کیا جاسکا جو اس کتاب کے آسمانی کتاب اور سچ ہونے کی دلیل ہے 

قرآن کریم کی پہلی آیات 

کا دعویٰ ہے کہ 

آلم۔ذالک الکتاب لاریب فیہ،

اس کتاب میں جو لکھا گیا ہے سب سچ ہے اور شک کی گنجائش نہیں ہے  

اسی قرآن نے انسان کو ایک اور چیلنج دیا ہے 

سورہ الرحمن میں 

اے جن و انس تم میں اگر طاقت ہے تو تم ہمارے بنائے ہوئے زمین اور آسمان کے کناروں سے نکل کر دکھاؤ مگر تم نہیں نکل سکتے

 ( ہاں البتہ سلطان سے)

یہ سلطان کیا ہے اس پر پھر کبھی بات کریں گے جب کوئی ایسا ملا جو اس کے بارے جاننے کا خواہاں ہو 

اسی قرآن نے ایک اور دعویٰ پیش کیا ہے جس کا متبادل بھی تاریخ انسانی پیش نہیں کر سکتی وہ ہے 

خلق الانسان فی احسن التقویم ثم رددناہ اسفل السافلین

ترجمہ

ہم نے انسان کو بہترین تخلیق کیا پھر اسے سب سے نچلے درجے میں پھنک دیا یعنی زمین پر بسا دیا تاکہ یہ آزمایا جائے کہ کون ان میں سے اچھے اعمال کرنے والا ہے 

سورۃ ملک میں فرمایا

خلق الموت والحیات لی یبلوکم ایلم احسن عملاً ہ

یعنی میں نے انسان کی زندگی اور موت اس لیئے تخلیق کی کہ میں دیکھوں کہ تم میں سے کون اچھے اعمال کرتا ہے 

اس مختصر بحث سے یہ ثابت ہوا کہ کائنات کا تخلیق کرنے والا اللہ رحمان ہے 

جو اپنا تعارف کرواتا ہے کہ 

الحمد اللہ رب العالمین

تمام تعریفیں اس رب کی ہیں جو تما عالمین کو پالنے والا ہے وسائل فراہم کرنے والا ہے رات دن کرنے والا ہے بارش برسانے والا ہے 

سردی گرمی بہار خزاں کے یہ موسم پیدا کرنے والا ہے 

انسان کو اور دیگر جمادات،نباتات ،حیوانات پیدا کرنے والا ھے 

انسان کو جس رب نے تخلیق کیا ہے اس کا سوفٹویئر اور ہارڈ ویئر جس نے تربیت دیا ہے اس کی خامیاں اور خوبیاں بھی وہی جانتا ہے 

ہم نے اگر اس اللہ کے قانون قرآن کریم سے یا اس کے  کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سیکھا جائے یہ مہم سمجھ میں نہیں آئے گا اگر چہ اس پر بہت ریسرچ ہورہی ہے جو اب تک ریسرچ ہوئی ہے وہ بھی انسان کی خود اپنی تلاش کا نتیجہ ہے 

اللہ کے آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں 

من قد عرفہ نفسہ فقد عرفہ ربہہ 

جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا اس کو اللہ رب العالمین مل جائے گا 

جس طرح اللہ نے ہماری روح کی بالیدگی کے لیے قرآن اتارا، اسی طرح ہمارے جسمانی 'ہارڈ ویئر' کی حفاظت کے لیے بہترین غذائیں اور فطری طریقے بھی عطا کیے۔"

 

تحقیق وتحریر

ڈاکٹر محمد شاہ

بانی غذا سے شفاء


 

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

آپ نے میرا پیج وزٹ کیا آپ کا شکریہ آپ اور آپ کی رائے میرے لیئے محترم ہےمیں پہلی فرست میں آپ کو رپلائی کروں گا اپنا خیال رکھنا