گوبھی (Cauliflower) کے فوائد اور نقصانات
گوبھی فائبر، وٹامن سی، آئرن کا خزانہ
اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئیے زمیں پر بہت ساری نعمتیں پیدا کی ہیں
قانون قدرت یہ ہے کہ ہر چیز کو دو رخ پر بنیا گیا ہے جہاں ایک چیز میں بہت سارے فوائد ہیں وہاں وہی چیز جب ضرورت سے زیادہ لی جائے تو نقصان دہ ہوتی ہے اس کی تھیوری کو سمجھیں تو زیادہ بہتر ہے
قانون قدرت یا فطرت جو اللہ تعالیٰ نے رب العالمین نے بنایا ہے وہ یہ ہے
جو اللہ نے انبیاء کرام علیہم السلام کے ذریعہ عام انسانوں تک پہنچایا گیا
آسمانی صحائف میں بیان ہوا قانون سب کے لئیے یکساں ہے
پھر چاہے تورات ھو
انجیل ہو
یا قرآن کریم
کہا گیا کہ
اے بنی آدم! ہر نماز کے وقت اپنی زینت (لباس) اختیار کرو، اور کھاؤ اور پیو اور حد سے نہ بڑھو (اسراف نہ کرو)، بے شک وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا
قرآن کریم سورہ اعراف آیت (31)
یہاں یہ قانون تمام انسانوں کے لئے ہے
صفائی اختیار کرو مطلب صاف شفاف رہو اور صاف شفاف چیزیں کھاؤ
اور حسب ضرورت کھاؤ اور پیو اسراف مت کرو یعنی ضرورت سے زیادہ نہ کھاؤ
سورۃ بقرہ کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو "حلال اور طیب" اشیاء کھانے کا حکم دیا ہے:
اب قانون کے مطابق کہانی کو سمجھنے
یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ کُلُوۡا مِمَّا فِی الۡاَرۡضِ حَلٰلًا طَیِّبًا
ترجمہ: "اے لوگو! زمین میں جو کچھ حلال اور پاکیزہ (طیب) ہے اس میں سے کھاؤ۔"
(سورۃ البقرہ، آیت: 168)
ہم نے غذا سے شفاء خوراک سے علاج کے ضمن میں پہلے بڑے گوشت کے فوائد اور نقصانات پر کچھ بات کی ہے
گوبھی بھی اسی قبیلے سے یا یوں کہیں کے ویسے ہی اثرات کی حامل ہے جو بڑا گوشت خاص کر گائے کا گوشت رکھتا ہے
ہمارا دعویٰ ہے کہ خوراک ہی 80٪امراض کا سبب ہے
اور خوراک ہی 80٪امراض کا علاج ہے
اب غور سے سمجھیں بار بار پڑہیں تب بات سمجھ آ جائے گی بیماری تب پیدا ہوتی ہے جب انسان مندرجہ بالا حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے
یا چیزیں صاف تازہ حلال نہ ہوں وہ کھائی جائیں
یا چیزیں انسانی وجود کی ضرورت نہ ہوں اور وہ کھائی جائیں مطلب اسراف کیا جائے تب انسانی خون میں سب سے پہلے فساد پیدا ہوتا ہے جس سے پورا جسم متاثر ہوگا
چونکہ خون غذا سے بنتا ہے اور خون کی پیدائش کا کوئی ذریعہ نہیں ہے
اور ہر خوراک جو کھائی جائے اس سے بننے والے خون میں اس غذا کے اثرات پیدا ہوتے ہیں یا یوں کہ لیں کہ انسانی خون طب یونانی یا طب اسلامی کے نکتہ نگاہ سے تین اخلاط کا مجموعہ ہے
سودا
صفراء
بلغم
باقی اجزا اس میں شامل ہیں مگر غالب یہی تین رہتے ہیں
جب یہ تینوں خون میں معتدل حالت میں ہوں تو انسانی جسمانی اور روحانی طور پر صحت بہترین ہوتی ہے
بیماری تب پیدا ہوتی ہے جب کسی سبب سے ان میں سے کوئی ایک خلط کی مقدار خون میں دوسرے اخلاط پر غالب آجائے ، مثلآ اگر کسی شخص کو سانپ 🐍 کاٹے تو اس کے خون میں صفراء کی مقدار بہت زیادہ بڑہ جاتی ہے جس سے اعتدال ٹوٹ جاتا ہے اور جگر کے اندر حدت حد سے زیادہ بڑہ کر خشکی گرمی کو حد سے زیادہ بڑہ دیتی ہے جس سے خون کا قوام پتلا ہوجاتا ہے اور خون سے پانی یا بلغم اور سودا کی مقدار جل کر کم ھو جاتی ھے جس سے خون پتلا ھو جاتا ہے
اور عدد جاذبہ میں تیزی پیدا ہوتی ہے عدد ناقلہ ضعف کا شکار ہو جاتے ہیں جس سے پیشاب کا اخراج رک جاتا ہے
اور خون کے اخراج کے امکانات بڑھ جاتے ہیں
اعصاب قلب اور جگر کے درمیان قائم فطری توازن بگڑ جاتا ہے اور مریض کے اعصاب میں تسکین پیدا ہوجاتی ہے
قلب کے اندر گرمی سے تحلیل پیدا ہوجاتی ہے اس سے مریض کومہ یا گہری نیند میں بلا جاتا ہے اور مر جاتا ہے
تو ثابت ہؤا کہ صفراء کی زیادتی جو سانپ کے زہر کی وجہ سے پیدا ہوئی اصل سبب موت بنی اب اگر اسے مریض کو فوراً انٹی ڈوٹ دیا جائے تو زندگی بچ سکتی ہے
طب اسلامی یا طب صابر میں صفراء کا توڑ اعصابی زہر کو قرار دیتا ہے کہ اگر اس شخص کو جس کے اندر صفراء حد سے زیادہ بڑہ گئی ہے جس کا جگر حد اعتدال سے زیادہ متحرک ہے کو اعصاب میں تحریک پیدا کرنے کی دواء یا غذا دی جائے تو ایک طرف جگر کی تحریک کو روکے گی دوسری طرف قلب کی گرمی کو کم کرکے وہاں تسکین پیدا کریگی جس سے صفراء جسم سے پیشاب کے ذریعے خارج ہوکر نکل جائے گی اور مریض بچ جائے گا یہی کام جینڈس یرقان کے آخری اسٹیج پر بھی کیا جاتا ہے
تو جس طرح سانپ کے کاٹنے سے زہر کی وجہ سے جو صفراوی زہر ہے خون کے اندر صفراء کی مقدار بڑھ گئی اسی طرح سودا یا بلغم کی مقدار خون میں حد اعتدال سے بڑہ جائے تو فساد پیدا ہوگا اور اس کی متعلقہ علامات یدا ہونگی ، اب اگر کوئی شخص اسراف کریگا تو لازم نقصان اٹھائے گا تو اسراف کی دو اقسام ہیں
ایک ایک جگہ پر بیٹھ کر کسی چیز کا زیادہ کھانا جس سے فوڈ پوائزنگ ہوجاتی ہے
دوسری آہستہ آہستہ کسی چیز کا جو پسند ہو زیادہ مسلسل ا ستعمال کرنا اس سے اس چیز کے متعلقہ اثرات یا خلط کا خون میں اضافہ ہوگا اور یہ اس کے متعلقہ عضو خاص میں تحریک کا سبب بنے گا جس سے اس کے متعلق امراض پیدا ہونگے
ہم نے پہلے کہا کہ بڑے گوشت خاص کر سور 🐷 پگ کے گوشت کے کھانے سے انسانی خون میں سودا کی کثیر مقدار پیدا ہوتی ہے جو اسراف ہوگا اور امراض پیدا کریگا
اسی قبیل سے گوبھی بھی ہے جس میں بہت فوائد ہیں مگر جب یہ حد اعتدال سے زیادہ کھائیں گے تو یہ گیس قبض اپھارہ چون کے گاڑھا پن ہارٹ بلاکج کولیسٹرول سردی خشکی کی زیادتی جسم میں سیاہی کو پیدا کریگی جو ہارٹ اٹیک کا سبب بھی بن سکتا ہے
بواسیر اسی قبیلے کی اشیا کھانے سے سوداوی خون کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے
اب ا کو گوبھی کے فائدے کے بارے کچھ بتائیں گے
گوبھی
غذائیت کا خزانہ یا امراض کا سبب؟
سائنسی اور طبی حقائق کا تقابلی جائزہ
عام طور پر باورچی خانوں میں پکنے والی "پھول گوبھی" محض ایک سبزی نہیں بلکہ اپنے اندر حیرت انگیز طبی راز چھپائے ہوئے ہے۔ جہاں جدید سائنس اسے وٹامنز کا گھر قرار دیتی ہے، وہاں قدیم طب (حکمت) اس کے مزاج اور اثرات کے بارے میں چند اہم انتباہات بھی جاری کرتی ہے۔
اس آرٹیکل میں ہم گوبھی کے فوائد، اس کی اقسام، مضر اثرات اور ان کی اصلاح کے روایتی طریقوں پر مفصل بحث کریں گے۔
1. گوبھی کا غذائی پروفائل (جدید سائنس کی نظر میں)
جدید تحقیق کے مطابق گوبھی کیلوریز میں کم لیکن غذائیت میں بہت بھرپور ہے۔ اس کے اہم اجزاء درج ذیل ہیں:
وٹامنز: وٹامن C (قوت مدافعت)، وٹامن K (ہڈیوں کی صحت) اور وٹامن B6۔
نمکیات پوٹاشیم، میگنیشیم اور مینگنیج کا بہترین ذریعہ۔
فائبر ہاضمے کے نظام کو متحرک رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
اینٹی آکسیڈنٹس اس میں موجود گلو کو سینو لیٹس
کینسر جیسے موذی مرض کے خلاف ڈھال کا کام کرتے ہیں۔
2. گوبھی کی مختلف اقسام
سفید گوبھی کے علاوہ اس کی دیگر اقسام بھی قدرت کا شاہکار ہیں:
سفید گوبھی عام دستیاب قسم۔
ارغوانی (Purple) گوبھی اینتھو سائینن سے بھرپور جو دل کے لیے مفید ہے۔
نارنجی (Orange) اس میں سفید گوبھی کے مقابلے میں 25 گنا زیادہ وٹامن A پایا جاتا ہے۔
ہری گوبھی (Romanesco) یہ ہاضمے کے لیے ہلکی اور ذائقے میں منفرد ہوتی ہے۔
3. گوبھی کے بادی اثرات اور طبی انتباہات (حکمت کا نکتہ نظر)
جہاں جدید سائنس اس کے وٹامنز گنواتی ہے، وہاں روایتی طب اس کے "سوداوی" اور "بادی" مزاج پر زور دیتی ہے۔ گوبھی کے کچھ مخفی
نقصانات درج ذیل ہیں
خون کا گاڑھا پن، یہ خون میں غلظت پیدا کرتی ہے، جو طویل مدت میں ہارٹ بلاکج کا سبب بن سکتی ہے۔
سودا کی پیدائش یہ جسم میں "سودا" (Black Bile) پیدا کرنے کا بڑا ذریعہ ہے، جس سے جلد پر سیاہی مائل دھبے اور خارش پیدا ہو سکتی ہے۔
جوڑوں کا درد اور گھٹیا
بادی پن کی وجہ سے یہ ریحی درد پیدا کرتی ہے، جو گھٹیا اور جوڑوں کے مریضوں کے لیے زہر کے مترادف ہے۔
نظامِ ہضم اور بواسیر، اس کا کثرت سے استعمال پیٹ میں گیس (تبخیر) پیدا کرتا ہے اور بواسیرِ بادی کا سبب بن سکتا ہے۔
دل کی دھڑکن میں تیزی سوداوی مزاج کی وجہ سے یہ بعض اوقات دل کی دھڑکن میں تیزی یا بے چینی پیدا کرتی ہے۔
4. گوبھی کے اثرات کی اصلاح (مصلح غذا)
حکمت کا اصول ہے کہ "ہر غذا کا مصلح موجود ہے"۔ اگر آپ گوبھی کے شوقین ہیں تو اس کے مضر اثرات سے بچنے کے لیے درج ذیل اشیاء کا ساتھ استعمال لازمی کریں:
سبزیاں اور دالیں گوبھی کو پالک، سرسوں کا ساگ، مسور کی دال یا دال چنا کے ساتھ ملا کر پکانے سے اس کی خشکی اور بادی پن کم ہو جاتا ہے۔
گوشت اور انڈے , مرغی کا گوشت، انڈے کی زردی یا بکرے کی کلیجی گوبھی کے منفی اثرات کو ضائع کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
مصالحہ جات, پکاتے وقت ادرک، لہسن، کالی مرچ اور اجوائن کا کثرت سے استعمال اسے ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے نیگیٹو اثرات کو ختم کرتے ہیں
ہاضم قہوہ
گوبھی کھانے کے بعد پودینہ، زیرہ سیاہ ادرک اور سبز چائے کا قہوہ پینا اس کے بد اثرات سے بچاتا ہے اور اسے جلد ہضم کرتا ہے۔
5. ایک اہم سماجی المیہ
مزاج سے ناواقفیت
آج کل کے دور میں لوگ غذا کا انتخاب صرف ذائقے کی بنیاد پر کرتے ہیں، جبکہ اپنے جسمانی مزاج (Temperament) سے واقف نہیں ہوتے۔ جدید طبی نظام (ایلوپیتھی) میں غذا کے مزاج اور سودا و صفرا کے توازن کو نظر انداز کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے بیماریاں بڑھ رہی ہیں۔
گوبھی جہاں وٹامنز کا ذریعہ ہے، وہاں زکام کی صورت میں قاطعِ بلغم ہونے کی وجہ سے مفید بھی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اسے اس کے مصلحات کے ساتھ استعمال کریں اور اپنی غذا کو اپنے مزاج کے مطابق ڈھالیں۔
کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ کا مزاج کیا ہے؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور دیں!
امید ہے یہ آرٹیکل آپ کی ضرورت کے عین مطابق ہوگا۔ کیا آپ چاہیں گے کہ میں کسی اور سبزی یا پھل پر اسی طرح کا تقابلی جائزہ پیش کروں؟
یہ آرٹیکل معلومات کے لئیے ہے علاج کی غرض سے اپنے ماہر غذائیت یا ڈاکٹر سے رجوع کریں
اس سے پہلے ہمارا آرٹیکل غذا سے شفاء خوراک سے علاج لازم پڑہیں تاکہ بات کا تسلسل قائم رہے اور بات سمجھ آ جائے اور بات سمجھ آ جائے آپ کو
https://healthtips111093.blogspot.com/2026/03/ghiza-se-shifa-aur- khorak say elaj
تحقیق وتحریر
ڈاکٹر محمد شاہ
بانی غذا سے شفاء
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
آپ نے میرا پیج وزٹ کیا آپ کا شکریہ آپ اور آپ کی رائے میرے لیئے محترم ہےمیں پہلی فرست میں آپ کو رپلائی کروں گا اپنا خیال رکھنا